عدم اعتماد لیکن کہاں تک؟

وزیراعظم خاقان عباسی نے کہا ہے کہ انہیں میاں نواز شریف کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے سے اختلاف نہیں مگر وہ سپریم کورٹ کا احترام کرتے ہیں۔ حیرت ہے آپ کو اپنے ملک کی سپریم عدالت کے ججوں پر اعتبار نہیں۔ آپ ملک کے وزیراعظم ہیں۔ یا للعجب! اگر ملک کا وزیراعظم اپنے ہی ملک کی سب سے بڑی عدالت پر عدم اعتماد کر رہا ہے تو عام پاکستانی اس سے متعلق کیا رائے قائم کرے گا؟ جو پہلے ہی ملک کے قریباً ہر ادارے کا زخم خوردہ ہے۔ پولیس سے متعلق کچھ کہنے سننے کی ضرورت نہیں اگر آپ کو ذاتی تجربہ نہیں ہوا تو اپنے کسی بھی عزیز دوست سے استفادہ کریں وہ آپ کو بتا دے گا کہ ہماری پولیس کیسی ہے؟ قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے متعلق عوامی رائے کیا ہے؟ اگر اس سوال پر کسی نے سروے کیا تو بڑے بھیانک نتائج برآمد ہوں گے۔
مجھے خصوصاً میاں نواز شریف کی نااہلی کے بعد بہت عجیب اور پریشان کن صورتحال کا سامنا ہے۔ سوشل میڈیا پر اپنے کسی کالم یا آرٹیکل سے متعلق قارئین کے کمنٹس میں یہ بات خصوصاً نوٹ کی ہے کہ ایک منظم سازش کے تحت فوج کے خلاف بے چینی بلکہ بغاوت کی فضا بنائی جا رہی ہے۔ جس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ آپ کسی بھی موضوع پر کالم لکھیں اس پر ہونے والے کمنٹس میں کچھ گلو بٹ فوج کو زبردستی لے آئیں گے۔ میں نے اس پر باقاعدہ تحقیق کی ہے تو میرے علم میں آیا ہے کہ جذباتی اور خصوصاً کم عمر نوجوانوں کو ’’ہاکس‘‘ جانوروں کی طرح فوج سے نفرت کی غذا فیڈ FEED کرتے ہیں جو ان کے ناپختہ اذہان فوراً قبول کر کے اس کو اپنی روزمرہ کی گفتگو کا حصہ بنا لیتے ہیں مثلاً مجھے قریباً ہر دوسرے تیسرے روز یہ فقرہ پڑھنے کو ملتا ہے کہ عوامی حکمرانوں نے معاہدہ شملہ اور معاہدہ لاہور کیا تھا جس سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات بہت اچھے ہو گئے تھے لیکن فوج نے انہیں چلنے نہیں دیا۔ جب میں نے جستجو کر کے ان میں سے دو تین نوجوانوں سے ان کی تعلیم دریافت کی تو ان میں سے ایک نے بمشکل ایف اے پاس ہونے کا اعتراف کیا۔ تینوں نے بتایا کہ ان کا تعلق کاروباری گھرانوں سے ہے انہوں نے اپنی زندگی میں اپنے گھر میں کبھی اخبار نہیں دیکھا البتہ ان کا اٹھنا بیٹھنا آنا جانا جلسے جلوسوں میں بطور شغل میلہ لگا رہتا ہے۔ میں نے ان سے الگ الگ معاہدہ شملہ اور معاہدہ لاہور کی تفصیلات دریافت کیں تو ان میں سے صرف ایک نے بتایا کہ میاں صاحب نے پاکستان اور بھارت کے درمیان لاہور معاہدہ کیا تھا۔ معاہدہ شملہ کس نے کیا؟ انہیں اس کا بھی علم نہیں تھا کیونکہ تینوں نوے کے عشرے میں پیدا ہوئے۔ میں لاہور کی حد تک بات کرتا ہوں کہ یہاں درمیانہ درجے کے بزنس مین گو کہ شروع ہی سے میاں برادران کے حمایتی ہیں لیکن اس کی ان کے پاس ایک ٹھوس وجہ یہ ہے کہ میاں صاحبان کے دور حکومت میں انہیں انکم ٹیکس والے زیادہ تنگ نہیں کرتے یہاں تک تو یہ بات ٹھیک تھی لیکن اب آپ ان کے منہ سے بغیر کسی وجہ کے بغیر کسی موضوع گفتگو کے کسی نہ کسی حوالے سے فوج کے خلاف کوئی بات ضرور سنیں گے۔ کچھ بھی ہو اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ میاں صاحب کے موجودہ دور حکومت سے پہلے یہ لوگ فوج کا احترام کرتے تھے جبکہ فوج نے ان دنوں دہشت گردی کے خلاف کوئی بڑا آپریشن بھی شروع نہیں کیا تھا۔ یوں بھی لاہور کے شہری مزاجاً فوج کا احترام کرنے والے تھے بدقسمتی سے اب ایسا نہیں رہا۔
کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ 1965ء میں میرا شعور بالغ تھا میں چھٹی جماعت کا طالب علم تھا اور گھر میں باقاعدہ اخبار اور ریڈیو کی خبروں کی وجہ سے جانتا تھا کہ لاہور پر بھارتی فوج کا حملہ ناکام ہونے کی ایک بڑی وجہ لاہور کے شہریوں کی پاکستانی فوج سے بے پناہ محبت تھی۔ یہ لوگ فوجیوں کی کسی بھی حوالے سے خدمت کرنا اپنے لیے فخر جانتے تھے اور آج بھی اگر آپ واہگہ کی سرحد پر پرچم کشائی تقریب میں جائیں تو وہاں یہ جذبہ آپ کو جنون کی حد تک دکھائی دے گا۔ لاہور کے مڈل کلاس لوگ بطور خاص کسی بھی سیاسی بحث میں فوج کو ہدف تنقید نہیں بناتے تھے۔ 1977ء کے الیکشن میں جب پیپلز پارٹی اور اسلامی جمہوری اتحاد ایک دوسرے کے خلاف شدید نفرت کا اظہار کر رہے تھے اور قریباً جنگ کا ماحول بنا ہوا تھا۔ پولیس ناکام ہو چکی تھی جہاں امن و امان کی صورتحال زیادہ خراب ہوتی ایک فوجی ٹرک اور جیپ وہاں سے گزرتے تو لوگ نارمل ہو جایا کرتے تھے۔ اس کی وجہ خوف نہیں بلکہ فوج کا احترام تھا۔
اب ایک منظم سازش کے تحت فوج کے خلاف انتہائی زہریلی اور نفرت انگیز مہم سرکاری سطح پر چلائی جا رہی ہے۔ میڈیا کے بعض اینکرز جن پر کسی زمانے میں ایجنسیوں کے بندے ہونے کا الزام لگایا جاتا تھا۔ وہ بھی اب ڈٹ کر فوج کے خلاف ہذیان بکتے ہیں۔ اپنے مباحث میں وہ اینکرز اور کالم نگار جو فوجی گملوں کی پیداوار ہیں فوج کو بڑے طنزیہ پیرائے میں ہدف تنقید بناتے ہیں خصوصاً انگریزی میڈیا اس میں پیش پیش ہے۔ بات ڈان لیکس سے بہت آگے جا چکی ہے۔ ایک مثال سے سمجھئے! سلمان تاثیر کے صاحبزادے کا انگریزی معاصر جو تعداد میں بمشکل پانچ سو یا ہزار چھپتا ہو گا کے نامور ایڈیٹر صاحب نے جو اس سے پہلے بھی اپنے لبرل خیالات کے لیے خاصا نام کما چکے ہیں۔ آج کل ایک ’’تفتیش‘‘ کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ پاکستانی فوج نے 1965ء میں انڈیا سے بری طرح شکست کھائی تھی اس ضمن میں آپ نے بڑے بڑے مستند انڈین جرنیلوں کے حوالے بھی جمع کیے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کون سا موقع ہے 1965ء کی جنگ کے حوالے سے بحث کا؟ اور یہ کہ آخر 1965ء میں پاکستان کی شکست ثابت کر کے وہ کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ ایمانداری کی بات تو یہ ہے کہ دہشت گردی کی اس عالمی لہر میں قریباً تمام مسلم ممالک کا ڈھانچہ سوائے دوچار کے زبردست متاثر ہوا ہے۔ کچھ ممالک جن میں عراق، شام، لیبیا، مصر، اردن، یمن اور سعودی عرب بھی شامل ہے بہت متاثر ہوئے ہیں۔ افغانستان کا حال ہمارے سامنے ہے لیکن حیرت انگیز طور پر مسلم دشمن قوتوں کا مستقل ٹارگٹ ہونے کے باوجود پاکستان الحمدللہ نا صرف سلامت ہے بلکہ زیادہ آن بان اور شان کے ساتھ دشمن کے سینے پر مونگ دل رہا ہے۔ دہشت گردی کا ہم نے الحمدللہ حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے کچھ ’’باقیات‘‘ ہیں جلدی وہ بھی ختم ہو جائیں گی۔ بھارت، افغانستان اور دیگر پاکستان دشمن حکومتوں کی طرف سے پاکستان پر مشترکہ یلغار کے باوجود ہم زندہ سلامت اور بخیر و عافیت ہیں جو دشمن کے لیے ناقابل برداشت ہے۔
مشرقی پاکستان کے عوام فوج کے خلاف پراپیگنڈہ مہم کا شکار ہو کر باغیوں سے مل گئے تھے اور ہم سقوط کے سانحے سے دو چار ہوئے۔ آج ہمارا دشمن اپنے تنخواہ دار ایجنٹوں کے ذریعے ہمیں اسی طرف دھکیل رہا ہے اور ہماری دائیں بازو کی قیادت صرف خود کو لبرل اور ترقی پسند ثابت کرنے کے لیے اس کا ٹول Toolبنی ہوئی ہے۔ یہ بڑی پریشان کن اور خطرناک صورتحال ہے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ’’برسر اقتدار مافیا‘‘ کو اپنی تباہی کا یقین ہونے لگا ہے لیکن وہ اپنے مٹنے سے پہلے سب کچھ تباہ و برباد کرنے پر تلا ہے ایسا انشاء اللہ کبھی نہیں ہو گا۔