حلقہ 120اور عمران خان

عمران خان دیر ہی سے سہی صورت حالات کی سنگینی کا اعتراف ضرور کر رہے ہیں جیسا کہ آپ کا تازہ بیان 2013ء میں اگر ہمیں مرکز میں حکومت ملتی تو بہت مشکلات پیش آتیں قبل ازیں عمران خان نے ’’اصولی سیاست‘‘ کے چکر میں زندگی کے 20سال ضائع کیے وہ عام مسلمان پاکستانی کی طرح یہ سمجھتے تھے کہ ’’انصاف‘‘ کا نعرہ لگا کر معاشرے کے بیدار مغز خصوصاً متوسط طبقے کو اپنا ہمنوا بنا کر شاید وہ بھٹو مرحوم کی طرح انقلاب برپا کر دیں گے لیکن جلد یا بدیر انہیں شاید احساس ہو گیا کہ جس معاشرے میں ہم رہتے ہیں وہاں انقلاب نہیں آتے ’’تبدیلی‘‘ البتہ آ جاتی ہے۔ اس لیے عمران خان نے ’’تبدیلی‘‘ کا نعرہ لگایا اور پاور پالٹیکس کے ’’رسیا‘‘ خاندانوں اور افراد تک رسائی حاصل کر کے کم از کم ملک میں دوسری اہم سیاسی جماعت کی پوزیشن حاصل کر لی ہے۔ ان کے ناقدین جو دراصل ’’حاسدین‘‘ ہیں انہیں مسلسل طعنے دیتے ہیں کہ فلاں چور تمہارے ساتھ ہے۔ فلاں ڈاکو تمہارے ساتھ ہے فلاں کرپٹ تمہارے ساتھ ہے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن عمران خان چونکہ مسلسل ٹھوکریں کھانے کے بعد اب پختہ کار سیاستدان بن گئے ہیں اس لیے وہ اس تنقید کو خاطر میں نہیں لاتے ورنہ تو انہیں اگلے 20سال تک اپنی صفائیاں ہی پیش کرنی پڑتیں۔ انہیں اس تلخ حقیقت کا ادراک ہو گیا ہے کہ پاور پالٹیکس کی اس گندگی کو صاف کرنے کے لیے اس کا حصہ بننا ضروری ہے۔ بالکل ان روایتی کہانیوں کی طرح جہاں ڈاکوؤں کے کسی گروہ کے خاتمے کے لیے ہیرو کو اس گروہ کا حصہ بننا پڑتا ہے جہاں وہ اندر بیٹھ کر انہیں ختم کرتا ہے اور ایک روز خود اس گروہ کا لیڈر بن جاتا ہے۔
مجھے علم نہیں عمران خان کی یہ حکمت عملی کامیاب ہو گی یا نہیں کیونکہ فی الوقت تو مروجہ شیطانی سیاست میں اگر وہ دس قدم آگے جاتے ہیں تو ایک ہی حملہ انہیں پندرہ قدم پیچھے ہٹا دیتا ہے۔ ریحام خان طلاق والے حملے سے وہ اس لیے بچ گئے کہ اس کا سرخیل عباسی صاحب ایفڈرین کیس کے سلسلے میں بری طرح قانونی گرفت میں آ چکا ہے۔ اس کے اکاؤنٹس ضبط ہیں اور میاں نواز شریف کے اسلام آباد تا لاہور جلوس میں وہ توقع کے مطابق کردار بھی ادا نہیں کر سکا جس پر برگردن راوی میاں صاحب نے اسے اپنی مخصوص لاہوری زبان میں ٹھیک ٹھاک انداز سے نوازا ہے۔ پہلے پہل تو یہ خبر بھی عام ہوئی کہ میاں صاحب نے عباسی صاحب کو راندۂ درگاہ کر دیا ہے لیکن عباسی بے چارے نے اس وقت تک ہاتھ پاؤں مارے جب تک عدالت نے اس کے گرد شکنجہ نہیں کسا جس کے بعد موصوف بے دم ہو کر بیٹھ گئے ہیں۔ ’’ریحام خان حملے‘‘ کی کمان چونکہ آپ فرما رہے تھے یہ خطرہ تو اس طرح ٹل گیا۔
ملالئی والے حملے کا زور اس خاتون کی حواس باختہ گفتگو اور عجیب و غریب قسم کی حرکتوں نے توڑ دیا۔ پہلے پہل وہ میڈیا کی محبوبہ بنیں اور عمران مخالف میڈیا نے اس کے ذریعے عمران خان کی اچھی خاصی بینڈ بھی بجائی لیکن جلدی ملالئی کی اپنی بے وقوفی اور خود کو Over estimate کرنے کی وجہ سے وہ عمران مخالف مافیا کی نظروں سے گر گئی یوں بھی جتنی انوسٹمنٹ اس پر کی گئی تھی اس طرح کے نتائج نہیں ملے اور دوسری طرف غیر متوقع طور پر میاں نواز شریف کا اسٹیبلشمنٹ پر جمہوری حملہ بھی خاطر خواہ نتائج پیدا نہ کر سکا۔ ملالئی نے آخری حربہ کے طور پر پگڑی بھی باندھ لی اور رضیہ سلطانہ بننے کی کوشش کی لیکن قبائلی پگڑی کا بوجھ ان کے نازک کندھے نہیں اٹھا سکے سو ان کے غبارے سے بھی اب ہوا نکل گئی ہے وہ غصے اور بوکھلاہٹ میں اتنا زیادہ اور بے وجہ بولتی ہیں کہ اب میڈیا نے بھی کانوں کو ہاتھ لگا لیا ہے اور موصوفہ کا گزارا بیانات پر ہی ہو رہا ہے تازہ ترین اطلاعات کے مطابق انہوں نے پی ٹی آئی پر قبضہ کرنے کا بھی دعویٰ کر دیا ہے اور کہا ہے کہ عمران خان کوئی پی ٹی آئی کا مالک نہیں کہ اسے گھر سے نکال دے۔
شوکت خانم کے حوالے سے حملے بھی دم توڑنے لگے ہیں جس کی وجہ عمران خان کی چالاکی ہوشیاری یا منصوبہ بندی نہیں بلکہ غنیم کے قلعے میں شگاف پڑنا ہے۔ میاں صاحب کی لندن سے واپسی رک گئی ہے اور طے شدہ حکمت عملی کے مطابق نیب نے میاں صاحب اور اسحٰق ڈار فیملی کے خلاف ریفرنس پیش کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ جس پر میاں صاحب کے ’’دشمن‘‘ خوش دکھائی دے رہے ہیں لیکن نہیں جانتے کہ یہ آئی واش ہے۔ معاہدے یعنی این۔ آر۔ او کے تحت جس طرح جناب زرداری نے مکھن سے بال کی طرح تمام الزامات کو نکال پھینکا ہے اور نیب عدالت سے ’’صادق و امین‘‘ کی سند حاصل کر لی ہے۔ بعینہ میاں صاحب بھی اس منصب پر سرفراز ہو جائیں گے اور اس طرح جمہوریت کا حسن دوبارہ بحال ہو جائے گا۔ جس نوعیت کے فلمی ڈائیلاگ آج کل آصف زرداری صاحب بول رہے ہیں میاں صاحب خود تو خاموش ہی رہتے ہیں لیکن ان کے تنخواہ دار جانثار ڈھول ڈھمکے کے ساتھ اس سے بڑی بڑی بڑھکیں ہانکیں گے میثاق جمہوریت کی روح زندہ رہے گی۔
اگر عمران خان صاحب نے کوئی بہت گہری کالے رنگ کی عینک نہیں لگا رکھی تو انہیں میاں صاحب کی لندن روانگی کے مناظر دیکھ کر عبرت حاصل کرنی چاہیے تھی۔ آپ کی لندن روانگی پر جس نوعیت کا پروٹوکول دیکھنے میں آیا عام حالات میں اس کا تصور بھی محال ہے۔ شاید دوران بادشاہت میاں صاحب کا ایسا پروٹوکول نہ رہا ہو کہ آپ کی گاڑی براہ راست جہاز کے نزدیک جا کر رکے اور رائے ونڈ سے ایئر پورٹ تک شاید آج تک آپ کو اتنی تعداد میں سکیورٹی کے ساتھ رخصت بھی نہیں کیا گیا۔
حلقہ120میں جب مریم نواز صاحبہ تشریف لاتی ہیں تو پورا لاہور دہل کر رہ جاتا ہے کیونکہ یہ حلقہ مال روڈ، جیل روڈ، ہال روڈ، گوالمنڈی ، مزنگ اور چوبرجی کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے اور لاہور کی تینوں سڑکوں مال روڈ، فیروز پور روڈ، ملتان روڈ پر محترمہ کی آمد سے روانگی تک زندگی منجمد ہو کر رہ جاتی ہے۔ آپ کا پروٹوکول شاید وزیراعظم سے بھی زیادہ ہے۔ تمام ایم این اے، وزراء، ایم پی اے اس حلقے میں سکیورٹی کے ساتھ گھوم رہے ہیں۔ پنجاب کے بڑے بڑے ’’جیالے‘‘ یہاں فروکش ہیں۔ اب تک یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ پاکستان میں کوئی آئینی ادارہ ایسا نہیں جو یہاں محترمہ کلثوم نواز کی جیت کے راستے میں رکاوٹ بن سکے۔ دولت، اقتدار، طاقت سب کچھ ان کے پاس موجود ہے۔ مراعات یافتہ میڈیا اور ہر طبقہ زندگی کی فوج ظفر موج ان کے ساتھ ہے۔ ڈاکٹر یاسمین صاحبہ ہر گھر کیا ہر فرد سے ذاتی ملاقات کر لیں۔ پی ٹی آئی ہر قانونی طریقہ اپنا لے لیکن یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ یہاں وہ جیت نہیں سکتے۔ یہاں وہ جیتے گا جس کے پاس پنجاب پولیس، دولت اور طاقت زیادہ ہے۔ ابھی اس قوم کو مہذب بنتے بہت عرصہ لگے گا عمران خان صاحب!