کیا بھارت تیار ہے؟

ایک کہاوت کے مطابق چھلنی کیا بولے جس میں پہلے ہی اتنے چھید ہیں۔ صدر ٹرمپ نے پاکستان کے خلاف بیان کیا دیا بھارتیوں کی تو جیسے لاٹری نکل آئی۔ بھارتی آرمی چیف جنرل پین راوت نے پاکستان پر جو زبانی حملے کیے ہیں اور جو زبان استعمال کی ہے اس سے کم از کم یہ اندازہ با آسانی لگایا جا سکتا ہے کہ بھارتی فوج کے افسران کی تربیت کا معیار کیا ہے؟ شاید یہی وجہ ہے کہ آئے روز بھارتی آرمی میں افسران کے ہاتھوں جوانوں اور جوانوں کے ہاتھوں افسران کی موت کے واقعات بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق گزشتہ قریباً ایک سال میں افسران کی بیویوں سے جوانوں کے ناجائز تعلقات افسران کی طرف سے بے جا ظلم و تشدد اور گالی گلوچ سے بھارتی فوج میں جوانوں کے ہاتھوں 74افسران مارے جا چکے ہیں زیادہ واقعات مقبوضہ کشمیر کے ہیں جس کے بعد شمال مشرقی بھارت کا نمبر آتا ہے جہاں مقبوضہ کشمیر کی طرح بھارتی فوج اپنے دھندے میں مصروف ہے۔
بھارت کا پاکستان پر الزام لگانا چاند کی طرف منہ کر کے تھوکنے کے برابر ہے۔ ساری دنیا بھارتی فوج کے مقبوضہ کشمیر میں انسانی وحشت و بربریت کے کارناموں سے بخوبی آگاہ ہے اور ساری دنیا بھارتی اقلیتوں پر ہونے والے باہمن سامراج کے مظالم سے بھی بخوبی آگاہ ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال سرسہ والے گورو گورمیت رام رحیم سنگھ کی سزا ہے۔ 
اس جعلی گورو کو بھارتی ایجنسیوں نے سکھوں کے مذہبی جذبات کی توہین کرنے کے لیے میدان میں اتارا تھا۔ جس نے اپنی عجیب و غریب حرکتوں اور غلیط عادات کی وجہ سے جلد ہی بھارتی سماج کو اپنا گرویدہ کر لیا۔ سرسہ کے اس گورو نے اپنے آشرم کا نام ’’سچا سودا‘‘ رکھا ہوا تھا۔ ’’سچا سودا‘‘ پاکستانی پنجاب کے ضلع شیخوپورہ میں فاروق آباد کے نزدیک موجود سکھوں کا انتہائی متبرک اور محترم مقام ہے جہاں گورو نانک دیو جی نے ’’سچ کا کاروبار‘‘ کر کے سب سے پہلے اپنی گوریائی کا ثبوت دیا تھا۔ دنیا بھر میں موجود سکھ گوردوارہ جنم استھان ننکانہ صاحب کی طرح گوردوارہ ’’سچا سودا‘‘ کا احترام کرتے ہیں اور یہ ان کی روزانہ عبادات کا حصہ ہے۔
1984ء کے بعد سے چونکہ براہمن سامراج نے سکھوں کو جسمانی کے ساتھ ساتھ روحانی طور پر بھی ناکارہ کرنے کا پروگرام شروع کر رکھا ہے۔ ان کو دوبارہ ہندو بنانے کے لیے ہر ممکن گمراہی پھیلائی جا رہی ہے۔ 1984ء میں دربار کے سانحے کی بنیاد 1978ء میں ’’نرنکاری سکھوں‘‘ کی طرف سے سکھ مذہب کی توہین کے نتیجے میں ہونے والے فسادات میں رکھی گئی تھی جس میں درجنوں سکھ مارے گئے۔ سینکڑوں زخمی ہوئے اور سینکڑوں کو بھارتی ایجنسیوں نے غائب کر دیا۔ جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ جن کا تعلق سکھوں کے مذہبی مدرسے ’’دمدمی ٹکسال‘‘ سے تھا۔ ہندو سامراج کی اس سازش کو ناکام بنانے کے لیے ہی میدان میں اترے تھے۔ وہ سکھوں کو ’’امرت دھاری‘‘ بنا رہے تھے یعنی ان کو اپنے مذہب کی طرف واپس لا رہے تھے اور سیاسی سطح پر سکھ لیڈر شپ کا ہندو سامراج سے ایک ہی مطالبہ تھا کہ وہ سکھوں کو الگ مذہب کے پیروکار تسلیم کرے اور بھارتی آئین سے -45بی کی شق ختم کرے جس کے مطابق سکھ ہندو دھرم ہی کا حصہ ہیں۔ ہندو سامراج کے لیے یہ مطالبات تسلیم کرنا ممکن ہی نہیں وہ تو بھارت میں ’’شدھی تحریک‘‘ چلا کر یہاں بسنے والے ہر شخص کو ہندو بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ سکھوں کی مقدس کتاب گوروگرنتھ صاحب کی مسلسل توہین نے سکھوں کو تنگ آمد بجنگ آمد کی طرف دھکیل دیا۔ ہزاروں سکھوں کو قتل کیا گیا۔ سینکڑوں عورتوں کی آبروریزی کی گئی۔ اس سلسلے میں سینکڑوں کیس بھارتی پولیس نے درج بھی کیے ہیں لیکن حکومت کی طرف سے کسی ایک کے خلاف کارروائی نہیں ہوئی۔
1984ء کے بعد بھارتی ایجنسیوں نے سکھوں کے مذہبی تقدس کے خاتمے کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھی اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ ہندو لڑکیوں سے سکھوں کو ذلیل کروایا جاتا ہے ان کی مذہبی اعتقادات کی توہین عام بات ہے اس سلسلے میں سوشل میڈیا پر آئے روز نئی سے نئی ویڈیو دکھائی دیتی ہے۔
سرسہ کا گورو گورمیت بھی اس سلسلے کی ایک کڑی ہے جس نے خود کو گورونانک کے برابر کی ہستی ثابت کرنے کی کوشش کی سکھوں کے مذہبی جذبات کو بھڑکایا۔ اس کا آشرم دراصل زناکاری کا اڈہ تھا جہاں بھارتی اشرافیہ دادعیش دیا کرتی تھی۔ آج سے چودہ سال پہلے گورو گورمیت نے دو لڑکیوں کو ریپ کیا اس سے پہلے درجنوں لڑکیوں کو ریپ کیا گیا۔ جس سے خطرہ محسوس ہوتا اسے ختم کر دیا جاتا ان میں سے ایک لڑکی نے کسی نہ کسی طرح وزیراعظم باجپائی تک رسائی حاصل کر لی کیونکہ یہ جرنلسٹ تھی جس پر گورو کے خلاف زنا کاری کا مقدمہ درج ہوا جس کو حکومت ٹالتی رہی لیکن 14سال بعد بالآخر سی۔بی۔آئی کے ایک سکھ جج نے حکومتی پریشر کو نظر انداز کر کے جرأت مندانہ فیصلہ دیا اور گورو کو دس دس سال قید کی سزا دی۔
ایک طرف یہ گورو ہے دوسری طرف وہ ہزاروں سکھ عورتیں جن کا 1984ء اور اس کے بعد سے آج تک ریپ ہوا جن کے مقدمات درج ہیں لیکن ان بے چاریوں کی آواز کوئی نہیں سنتا۔ سکھ بھارت میں موجودہ اقلیتوں میں شاید ہر لحاظ سے مضبوط اقلیت ہیں جن کا یہ حال ہو رہا ہے اندازہ کریں مسلمانوں اور دلتوں کا کیا حال ہو گا؟ ایسے ملک کا چیف آف آرمی سٹاف جب پاکستانی فوج اور ایجنسیوں کے خلاف ہرزہ سرائی کرے گا تو اس پر کیا تبصرہ کیا جائے۔ آج اگر امریکہ انڈیا کے سر سے ہاتھ اٹھا لے تو شاید جن سنگھی بھارتی حکومت کو اپنی اوقات کا علم ہو جائے۔ آج اپنی ہمسایہ کمزور حکومتوں کو بھارتی حکومت نے اپنی طفیلی حکومتیں بنا رکھا ہے تو یہ اس کی بدمعاشی نہیں بلکہ صدر ٹرمپ کی مہربانی ہے۔ افغانستان میں اگر بھارتیوں نے پاکستان کے خلاف طوفان بدتمیزی اٹھا رکھا ہے تو اس کی وجہ امریکی آشیر واد ہے لیکن بھارتی سماج میں موجود ان دانشوروں کو جو ساری دنیا میں انسانیت کا ڈھونڈورا پیٹتے ہیں یہ سوچنا ہو گا کہ آخر امریکہ کی پشت پناہی کب تک رہے گی؟ پاکستانیوں سے زیادہ دنیا کی کس قوم اور حکومت نے امریکہ کا ساتھ نہیں دیا اور صدر ٹرمپ نے ان احسانات کا بدلہ کس طرح دیا ہے؟ کیا بھارت اس سانحے کے لیے تیار ہے؟ جہاں پہلے ہی آزادی کی 14مضبوط تحریکیں چل رہی ہیں؟