زمینی حقائق اور امریکی دھمکیاں

امریکی نائب وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان ملتوی ہو گیا لیکن خدا کا شکر ہے کہ پہلی مرتبہ ایسا پاکستان کی مرضی سے ہوا ہے یعنی پاکستان کی طرف سے جرأت رندانہ سے کام لیتے ہوئے کہا گیا کہ فی الحال آپ قدم رنجہ نہ فرمائیں معاملات کی درستگی کے بعد تشریف لائیں۔ امریکنوں کو شاید پہلی مرتبہ پاکستان کی طرف سے اس نوعیت کی صورتحال کا سامنا ہوا ہے ورنہ تو یہاں اللہ کے فضل سے کسی بھی امریکن سفارتی عہدے دار کے منہ سے بات بعد میں نکلتی تھی اس کی تعمیل کے لیے فوج ظفر موج پہلے سے موجود ہوتی تھی۔ جنرل نکلسن شاید تب کرنل تھے جب سے وہ افغانستان میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ حالات سے قریباً سب سے زیادہ باخبر ہیں لیکن بدقسمتی سے صدر ٹرمپ کی وہ گڈ بکس Good Booksمیں نہیں ہیں اس لیے ان سے صلاح مشورہ ذرا کم ہی لیا جاتا ہے۔ عین ممکن ہے انہوں نے صدر ٹرمپ کے مزاج کو جانتے ہوئے پاکستان کے خلاف ایسا بیان داغ دیا ہے جس سے وہ خود بھی حیران ہوتے ہوں گے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ صورتحال سے باخبر ہیں۔ 
جنرل نکلسن جانتے ہیں کہ کوئٹہ اور پشاور میں حکومت اور عوام دونوں اب افغانستان کے مہاجرین کو بھی برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں کیونکہ خصوصاً بلوچستان میں جس نوعیت کی مجرمانہ کارروائیاں افغان انٹیلی جنس اپنے آقائوں یعنی ’’را‘‘ کی مدد سے کرتی ہے اس امر کے متعدد شواہد ملتے ہیں کہ ان میں افغان مہاجرین کو ’’سہولت کار‘‘ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ افغان فوج کے دو افسر گرفتار ہوئے جنہوں نے یہ انکشاف کیا جس کے بعد بلوچستان کے وزیر داخلہ نے حکومت سے باقاعدہ درخواست کی تھی کہ بلوچستان کے افغان مہاجر کیمپوں کو خالی کروایا جائے لیکن پاکستان نے اسلامی بھائی چارے کے پیش نظر یہ بھاری پتھر بھی اٹھایا ہوا ہے۔
یہ پاکستان ہے جس نے امریکہ کی افغانستان میں مداخلت کی قیمت ادا کی ہے۔ نائن الیون میں کوئی پاکستانی ملوث نہیں تھا اور نائن الیون سے پہلے طویل عرصہ تک افغان جہاد کے دوران بھی پاکستان آرمی کے دس جوان بھی پاک افغان سرحد پر نہیں رہے نہ ہی کوئی دہشت گردی کی واردات ہوئی۔ نائن الیون کے بعد جب القاعدہ اور دیگر ممالک کے ہزاروں مجاہدین جنہیں امریکہ نے افغانستان میں روس کے خلاف ’’جہاد‘‘ کے لیے جمع کیا تھا جب امریکہ ان سے ناراض ہوا تو وہ جان بچانے کے لیے پاکستان کی طرف بھاگے کیونکہ ان کے نزدیک اور محفوظ سرحد یہی تھی اور امریکہ نے پاکستان کے ان سرحدی علاقوں کو روس کے خلاف جہاد کا ’’بیس کیمپ‘‘ بنایا ہوا تھا۔ اس تلخ سچائی کو باقاعدہ امریکہ کی سابق وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے ساری دنیا کے سامنے تسلیم کیا اور برملا کہا کہ پاکستان آج امریکی پالیسیوں کی قیمت ادا کر رہا ہے۔ میرا تو خیال ہے کہ ہیلری کلنٹن کی صدارتی انتخاب میں ناکامی کی وجہ شاید ان کا یہی سچ تھا جس نے ٹرمپ جیسے متعصب اور امریکی عوام کے ناپسندیدہ شخص کو بطور صدر ان پر مسلط کر دیا۔
صدر ٹرمپ کو اس بات کا علم تو ہو گا کہ ماضی میں بھی امریکہ نے یہی شرمناک کردار ادا کیا تھا جب اس نے اپنا مطلب پورا ہونے یعنی روس کی شکست وریخت کے بعد ’’مجاہدین‘‘ کو پاکستان کے سر پر سوار کر کے خود اپنا بوریا بستر سمیٹ لیا تھا تب بھی ان ’’امریکن مجاہدین‘‘ کو جو دنیا کے کونے کونے سے امریکہ نے اس خطے میں جمع کیے تھے پاکستان کے لیے مستقل عذاب بنا کر چھوڑ دیا گیا تاریخ کا جبر ہے یا امریکن پالیسیوں کا شاخسانہ کہ یہی امریکہ کے تیار کردہ مجاہدین جن میں اسامہ بن لادن جیسے مجاہد بھی شامل ہیں وقت آنے پر امریکہ کے لیے دہشت گرد بن گئے اور انہوں نے امریکن مداخلت کو کبھی ٹھنڈے پیٹوں قبول نہیں کیا۔
یہ امریکہ کی جنگ تھی حالات کا جبر تھا کہ پاکستان اس جنگ کی فرنٹ لائن سٹیٹ بن گیا جس کی قیمت ہم نے قریباً ایک لاکھ جانوں کے نذرانے اور کھربوں روپے نقصان کی صورت ادا کی اور کر رہے ہیں۔ آج ساری دنیا اس دہشت گردی کی لپیٹ میں آچکی ہے لیکن ساری دنیا میں صرف پاکستان ایسا ملک ہے جس کی فوج نے اپنے پیشہ وارانہ اہلیت اور جذبہ حب الوطنی سے سرشار ہو کر اس دہشت گردی اور دہشت گردوں کا خاتمہ کیا ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے۔
بھارت کا سب سے بڑا المیہ شاید یہی ہے کہ اس کے گھنائونے عزائم کے برعکس پاکستان عراق، لیبیا اور شام کی طرح اس دہشت گردی سے پھٹا نہیں بلکہ اس کی مسلح افواج اور عوام کا عزم مزید مضبوط ہوا ہے۔ اپنی مکارانہ پالیسیوں اور دنیا بھر کے بھوکے ننگے عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر اپنے اندر بسانے والے بھارت کے مکار وزیراعظم نے امریکی اور یورپی تاجروں کے لیے اپنے ملک کو شکار گاہ بنا کر پیش کر دیا اور دنیا کو یہ تاثر دیا جیسے بھارت ان کے لیے سب سے بڑی عالمی منڈی ہے۔ فرنگی تاجروں نے اس منڈی پر قبضے کے لیے دہشت گرد اور قاتل بھارتی وزیراعظم مودی جس کے لیے ساری دنیا نے اپنے دروازے بند کر دیئے تھے کو نہ صرف ’’وی وی آئی پی‘‘ بنا لیا بلکہ اس وحشی وزیراعظم کو پاکستان پر چھوڑ دیا جس نے بلوچستان اور ملک کے دیگر حصوں میںدہشت گردی کا جہنم مزید بھڑکا دیا۔ یہ دوسری عالمی جنگ کے بعد شاید انسانی تاریخ کا پہلا واقعہ ہے کہ ایک قریباً بریگیڈیئر کی سطح کا بھارتی فوجی افسر پاکستان میں دہشت گردی کرتا گرفتار ہوا۔ ہماری سیاسی قیادت کی نااہلی نے گو کہ ہمیں اس کامیابی سے بہرہ مند نہیں ہونے دیا لیکن دنیا اندھی تو نہیں ہے امریکہ، برطانیہ یا دنیا کے کسی بھی اور ملک نے اس کا نوٹس ہی نہیں لیا۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت جو انسانیت سوز مظالم ڈھا رہا ہے اور جس بری طرح بھارتی درندگی بے نقاب ہوئی ہے اس پر بھی کوئی احتجاج نہیں کرتا۔ افغانستان کو بھارت نے پاکستان کے خلاف اپنا تخریبی ہیڈ کوارٹر بنا رکھا ہے وہاں درجنوں تربیتی کیمپوں میں دہشت گردوں کو تربیت دے کر پاکستان میں دھکیلا جاتا ہے۔ ’’را‘‘ نے افغانستان میں بیٹھ کر سنٹرل ایشیا کے ہر قابل ذکر ملک تک اپنا تخریبی جال پھیلا دیا ہے۔ آج آذر بائیجان، ترکمانستان، ازبکستان چیلنج بن چکی ہیں اور حیرت کی بات ہے صدر ٹرمپ اس بھارت کی کارکردگی کو افغانستان میں سراہتے ہوئے اسے مزید غنڈہ گردی کی دعوت دے رہے ہیں؟ کیا جنرل نکلسن جیسے ’’باخبر‘‘ جرنیل افغانستان میں ’’را‘‘ کی گھنائونی سرگرمیوں سے آگاہ نہیں ہیں؟ کیا وہ نہیں جانتے کہ بلوچستان میں ’’را‘‘ کیا کارنامے انجام دے رہی ہے۔ افسوس انہیں بلوچستان میں طالبان دکھائی دے رہے ہیں لیکن بھارتی تخریب کاری دکھائی نہیں دے رہی۔
وقت آگیا ہے کہ امریکہ اپنی عینک کا نمبر تبدیل کرے۔ پاکستان کو دھمکیاں دے کر معاملات بگاڑنے کے بجائے اپنے طرز عمل پر غور کرے۔ اپنی ناکامیوں کی سزا پاکستان کو دینے کی حماقت کرنے کے بجائے پاکستان کی قربانیوں کا ادراک کر ے اور بھارت کی سرپرستی کے بجائے اس کھیل کے جینوئن کھلاڑیوں سے معاملات طے کرے۔ پاکستان اپنی سر زمین پر کسی دہشت گرد کا تصور کبھی برداشت نہیں کرے گا۔ نہ ہی یہ پاک سر زمین کسی کو استعمال کرنے کی اجازت دے گا۔ آج ساری قوم امریکہ کے اس طرز عمل پر سراپا احتجاج ہے۔ امید تو یہی ہے کہ صدر ٹرمپ کو اب تک احساس ہو گیا ہو گا کہ وہ کیا بیان دے چکے ہیں اگر انہوں نے اپنی ضد جاری رکھی تو عین ممکن ہے ویت نام کے بعد امریکہ کو افغانستان میں کسی بڑی ذلت کا سامنا کرنا پڑے۔