21ویں صدی کا پاکستان

صدر ٹرمپ کے جن مشیروں نے انہیں پاکستان سے متعلق بیان دینے پر اکسایا تھا جوابی رد عمل کے بعد ان پر کیا گزر رہی ہے اس کا تو علم ان بے چاروں کو ہو گا یا پھر اللہ بہتر جانتا ہے لیکن پاکستان کے جوابی رد عمل سے شاید طویل عرصہ بعد امریکی صدر کے چودہ طبق ضرور روشن ہو گئے ہوں گے اور وہ ان جرنیلوں اور ماہرین کی جان کو ضرور رو رہے ہوں گے جن کی غلط اور بے بنیاد بریفنگ پر انہوں نے یہ بیان جاری کیا۔ صدر ٹرمپ ہوں یا کوئی اور امریکی صدر ظاہر ہے وہ افغانستان یا پاکستان میں سفیر تو رہے نہیں کہ انہیں حالات کی سنگینی کا ادراک ہو وہ جو بھی رائے پاکستان سے متعلق قائم کریں گے وہ ان کی ذاتی رائے نہیں ہو گی بلکہ اس ’’لابی‘‘ کا کمال ہوتا ہے جس نے مخالف کیمپ کا حق نمک ادا کرتے ہوئے یہ کارہائے نمایاں انجام دیا ہوتا ہے۔ یہ بات بھی سابق صدر زرداری کے ذریعے ہمارے علم میں آئی کہ ہماری تو وہاں کوئی ’’لابی‘‘ ہی نہیں یعنی پاکستان نے امریکہ میں کسی پیشہ ور فرم کو اپنی لابنگ کے لیے نہیں رکھا ہوا جبکہ بھارت کے لیے اپنی جان سے گزر جانے والا ایک مضبوط ’’نکسس‘‘ NAXUS امریکہ میں موجود ہے جس میں بڑے معروف سینٹرز اور کانگریس ممبران شامل ہیں۔ یہ بھارتی نیکسس خصوصاً بلوچستان کے حوالے سے پاکستان کے خلاف مسلسل ہرزہ سرائی میں مشغول رہتا ہے۔ جن امریکی کانگریس مین اور سینٹر نے الطاف حسین سے لندن میں ملاقات کر کے صدر مودی سے اپنی تنخواہ پکی کروانے کے لیے تصاویر عالمی پریس میں جاری کروائی ہیں وہ بھارتی حکومت کے اسی نیکسس کا حصہ ہیں اور بھارتیوں کو الو بنانے میں کمال رکھتے ہیں۔ امریکہ کو چونکہ ہم جیسے نسل در نسل غلاموں نے زمین پر خدا بنا رکھا ہے اور ہماری بزدل، کرپٹ اور جاہل ’’بدمعاشیہ‘‘ کے نزدیک اگر امریکہ کو خوش رکھو تو ان کا دھندہ پاکستان میں چلتا رہے گا امریکہ ناراض ہو گیا تو ان کی چھٹی، بدقسمتی سے یہ سوچ عرصہ سے ہمارے برسر اقتدار طبقے پر غالب ہے اور امریکہ کو خوش رکھنے کے لیے وہ کس حد تک جا سکتے ہیں اس کے لیے جنرل مشرف کی مثال کافی ہے۔ جنرل ضیاء الحق کو چونکہ کچھ ایج حاصل تھا اس لیے ان کے دور حکومت میں سی آئی اے کو پاکستان میں بہر حال ’’محدود آزادی‘‘ ملی تھی جس کی بہترین مثال ان امریکن جاسوسوں کی ٹھکائی ہے جو ڈپلومیٹ کور Cover میں ایک روز کہوٹہ کے نزدیک ’’بکریاں چرانے والے چرواہوں‘‘ کے قابو آگئے تھے جنہوں نے ان کے ٹھیک ٹھاک کھنے سیک دیئے تھے۔ جنرل مشرف کے دور میں تو الاماشاء اللہ پاکستان کے بڑے بڑے شہروں کی سڑکوں پر بلیک واٹر دندناتی پھرتی تھی یہ سلسلہ پھر میثاق جمہوریت کے اول نمونے جناب زرداری کے عہد بادشاہت میں بھی جاری رہا کیونکہ ان کو حسین حقانی جیسے وطن فروش کی مکمل حمایت اور مدد حاصل تھی جس نے سی آئی اے کے لیے پاکستان کے دروازے اپنے ذاتی گھر کے دروازوں کی طرح کھول دیئے تھے۔ اسلام آباد کے ایف سیون میں قریباً دو سو بنگلے ان کے تصرف میں تھے اور یہ لوگ اسلام آباد ہوائی اڈے کے پچھلے دروازے سے باہر آیا کرتے تھے نہ کوئی ان کے پاسپورٹ چیک کرتا تھا نہ کوئی ان کے ویزے۔ اللہ بھلا کرے جنرل پاشا اور کیانی کا جنہوں نے بالآخر ان کا مکو ٹھپا اور ریمنڈ ڈیوس کے چکر میں قریباً تین ہزار سی آئی اے کے ایجنٹوں کو پاکستان سے کان پکڑ کر نکالا ورنہ اس ملک میں ایسی فلم چلتی کہ لوگ ہالی ووڈ کی فلمیں بھول جاتے۔ ایسے حکمران جن کی ہم رعایا ہیں صرف پاکستان نہیں دنیا کے بہت سے اور ممالک میں بھی پائے جاتے ہیں جنہوں نے امریکہ کا اچھا خاصا دماغ خراب کیا ہوا ہے اور وہ ہمارے ’’اسلامی جہاد افغانستان‘‘ کے نتیجے میں دنیا کا بیلنس آف پاور ختم ہونے کے بعد سے خود کو واقعی ’’یونی لٹرل پاور‘‘ سمجھنے لگ گئے ہیں۔ آپ اس غلامانہ ذہنیت کا اندازہ اس سے فرمائیں کہ جیسے ہی صدر ٹرمپ کا بیان جاری ہوا ہمارا موجود وزیراعظم جو ابھی تک اپنے بجائے میاں نواز شریف ہی کو اپنا وزیراعظم کہتا ہے فوراً سعودی عرب بھاگا کہ اپنے مالکان نمبر ٹو کے ذریعے صدر ٹرمپ تک اپنی منت سماجت پہنچا کر امریکہ کو ہاتھ ہولا رکھنے کے لیے راضی کر سکے یہ الگ بات کہ وہاں شاید کنگ نے ملنے سے ہی انکار کر دیا بے چارہ شہزادوں کے ہاتھوں ہی درگت بنوا کر واپس لوٹ آیا۔ اللہ بھلا کرے جنرل قمر جاوید باجوہ کا جنہوں نے حکومت کے بزدلانہ رد عمل کو برداشت نہ کرتے ہوئے امریکن سفیر کے ذریعے ٹھونک بجا کر ایسا پیغام دے دیا جس نے ہمارے ’’جمہوری چمپئن‘‘ کو بھی تگڑا کر دیا اور رضا ربانی کے بیان نے پاکستانیوں کا دل خوش کیا۔ مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق بالآخر خواجہ آصف کو ’’زبان درازی‘‘ کرنی پڑی اور انہوں نے امریکہ کو ڈرتے ڈرتے کچھ کہہ ہی دیا لیکن عمران خان اور ملک کے ہر اس شہری نے جو اس ’’بدمعاشیہ‘‘ کی گرفت سے آزاد ہے امریکہ کو پیغام پہنچا دیا ہے کہ اگر شمالی کوریا کا وہ کچھ نہیں بگاڑ سکا تو ہم اس سے گئے گزرے نہیں۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس مسئلے پر پہلی مرتبہ قوم میں اتفاق و اتحاد موجود ہے۔ ہم دہشت گرد نہیں، دہشت گردی کا شکار ہیں۔ ہم نے ایک لاکھ سے زیادہ جانوں کی قربانی دی ہے اور دے رہے ہیں۔ اس کرہ ارض پر صرف پاکستانی فوج ایسی فوج ہے جو دہشت گردی کے خلاف مسلسل جنگ لڑ رہی ہے۔ صدر ٹرمپ نے ہماری توہین کی ہے اب وقت ہے کہ ہم اپنے عزم پر ڈٹے رہیں اور بھارتی سازشوں کا جنازہ افغانستان سے نکالیں، جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے اس کا ایک ہی رونا ہے ’’میری جان طالبان سے چھڑائو‘‘ یہی پاکستان کا مضبوط کارڈ ہے۔ اگر ہم ہمت اور استقامت سے اس کو کھیل گئے تو واللہ یہ صدی ہماری ہے۔ صدر ٹرمپ کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ یہ 20ویں نہیں 21صدی کا پاکستان ہے۔