ویل کم انڈیا اِن افغانستان

مجھے تو سمجھ نہیں آرہی کہ یہ ’’تڑفنی‘‘ کس بات کی لگی ہے؟ ٹرمپ نے کون سی ایسی بات کہہ دی جو اس سے پہلے والے نہیں کہتے تھے کیا صدر اوباما نے پاکستان سے ہمیشہ ’’ڈومور‘‘ کا مطالبہ نہیں کیا کلنٹن کی ہمارے تئیں کیا نیک خواہشات تھیں؟ اور بش کا تو ذکر ہی کیا یہ ’’بش اور مش‘‘ ہی تھے جنہوں نے مل کر ہمیں اس حال تک پہنچایا۔ غضب خدا کا۔ نائن الیون میں کس ایک پاکستانی کا نام نہیں آیا اور ’’نائن الیون‘‘ کے سب سے بڑے شکار ہم بنے۔ خدا جانے کس جرم بے گناہی کی سزا ہم نے بھگتی اور آج تک بھگت رہے ہیں۔ ہمارے حکمرانوں کی طرف سے امریکی پریشر کو اس لیے مسلسل برداشت کیا جا رہا ہے کہ یہ ان کا ’’ذاتی مسئلہ‘‘ ہے قومی مسئلہ نہیں، نہ ہی اس سے پاکستان کا کچھ لینا دینا ہے۔ امریکہ نے افغانستان پر حملہ کرنا تھا۔ بھارت کے ذریعے کرتا یا کسی اور طرح۔ ہم صرف اس لیے ’’پاٹے خاں‘‘ بنے تھے کہ ان دنوں جنرل مشرف کو اپنا ٹوہر ٹپا دکھانا تھا اور پاکستانی سیاسی تاریخ کے دیگر غلاموں کی طرح امریکہ کے حلقہ ارادت میں آنا تھا۔ اس سارے دھندے میں پاکستان کہاں سے آگیا؟ ہم پر امریکہ نے حملہ کیوں کرنا تھا؟ ہمارے پاس اس کا کون سا مجرم چھپا ہوا تھا۔ القاعدہ، طالبان، اسامہ بن لادن سب کچھ افغانستان میں تھا۔ خوامخواہ اپنے نمبر بنانے کے چکر میں ہم نے یہ پنگا لیا اور اپنی جان کا عذاب بنا لیا۔ یوں تو الاّ ماشاء اللہ افغان جہاد کے ’’ثمرات‘‘ ہی کافی تھے۔ ہم 40لاکھ افغانوں کے مامے بنے ہوئے تھے ان کے ذریعے کلاشنکوف اور ہیروئن کا کلچر الگ سے آگیا تھا خدا خدا کر کے افغان جہاد ختم ہوا۔ ابھی ہم اس کے ’’ثمرات‘‘ سمیٹ رہے تھے کہ یہ خانہ خراب نائن الیون بھی ہمارا نصیبا بنا دیا گیا۔ اب حالت یہ ہے کہ اونٹ خیمے میں ہے اور عرب خیمے کے باہر کھڑا سر پیٹ رہا ہے۔
اب آئیے صدر ٹرمپ کے بیان کی طرف۔ دنیا کا کوئی قابل ذکر دانشور اور حکمران ایسا نہیں جس نے صدر ٹرمپ کی مشکوک ذہنی حالت کا ماتم نہ کیا ہو۔ آج ہی سی آئی اے کے سابقہ چیف کا بیان آیا ہے جس نے صدر ٹرمپ کو پاگل قرار دیا ہے۔ امریکنوں نے اپنی 40ہزار فوج افغانستان میں رکھی۔ 42ممالک کے مددگار فوجی اس کے علاوہ تھے۔ افغانستان کی اپنی ’’کھوتی فوج‘‘ بھی ہے۔ اس کے باوجود اگر وہ طالبان سے جوتے کھا رہے ہیں اور ان کی حکومت کابل اور دو تین شہروں تک محدود ہے تو اس میں پاکستان کا کیا گناہ؟ دنیا بھر کی ٹیکنالوجی، ڈرون، سیٹلائٹ غرض کون سا ایسا ہتھیار ہے جس سے یہ مسلح نہیں ہیں؟ ہمارے اہم شخصیات کی گفتگو چاہے وہ سات پردوں میں کی جائے ان کی دسترس میں ہے۔ پاکستان کے کسی شہر، محلے بلکہ گھر میں ہونے والی موومنٹ ان سے چھپی نہیں رہتی لیکن ان اندھوں کو پاکستان سے افغانستان میں جانے والے دہشت گرد دکھائی نہیں دیتے؟ آج لاہور میں گاڑیاں گوگل ارتھ کے نقشے کے مطابق چل رہی ہیں ہماری کوئی گلی، محلہ، سڑک، مکان کچھ ان سے چھپا نہیں۔ نادرا کی شکل میں ایف آئی اے کی سسٹر آرگنائزیشن جنرل مشرف کا امریکنوں کے لیے نایاب تحفہ ہے۔ کسی پاکستان کا کچھ ان سے محفوظ نہیں۔ اس کے باوجود اگر صدر ٹرمپ پاکستان میں دہشت گردوں کو پناہ دینے کے الزامات لگائے تو سوائے ضد، ہٹ دھرمی اور پاگل پن کے اور کیا معنی رکھتا ہے؟ اگر اسامہ بن لادن کو امریکن ایبٹ آباد سے اٹھا کر لے جا سکتے ہیں تو وہ کسی حقانی کو اٹھانے کے لیے بھی پاکستان سے اجازت طلب نہیں کریں گے؟ لیکن وہ جانتے ہیں کہ یہاں کوئی ہے ہی نہیں۔ یہ صرف امریکہ کے بزدل جرنیلوں کا طالبان کے ہاتھوں ذلت اٹھانے کے بعد اپنی صفائی میں وہ نام نہاد پراپیگنڈہ ہے جس کی کوئی اہمیت اور حیثیت نہیں۔ یہ صرف ’’بہانہ بازی‘‘ ہے جس سے وہ صدر ٹرمپ کو بے وقوف بنا کر ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا رہے ہیں۔ بے چارے طالبان کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے اور سیاپا ہمارا کر رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ کے اس بیان میں دیگر صدور کے مقابلے میں اضافی بات صرف ایک ہے کہ وہ شاید پہلا امریکی صدر ہے جس نے اپنے پیشرو صدور کے برعکس بھارت کو براہ راست افغانستان میں مداخلت کی دعوت اور اپنا ’’ہتھ ٹوکا‘‘ بنانے کا سرکاری سطح پر اعتراف کر لیا ہے۔ مودی بھی صدر ٹرمپ ٹائپ ہی کوئی چیز ہے۔ اسے تو آر۔ایس۔ایس کا دہشت گرد ہونے کے ناطے اپنی ’’زوجہ محترمہ‘‘ کی ناراضگی میں بھی پاکستان کا ہاتھ دکھائی دے رہا ہو گا اس بے چارے کا واویلا تو یہی رہا ہے اور رہے گا کیونکہ بھارتی آرمی کی طرف سے حکومت پر مسلسل دبائو بڑھ رہا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے معاملات کو بذریعہ بات چیت طے کرے۔ فوج سے روز روز نہتے مظاہرین کے جوتے نہیں کھائے جاتے۔ بد دلی بڑھ رہی ہے۔ خودکشی اور بھگوڑے فوجیوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ اب فوج کی طرف سے باقاعدہ بیانات آرہے ہیں کہ ہماری جان کشمیریوں سے چھڑائو ان سے مذاکرات کرو۔ یہ بات وہ بھی جان گئے ہیں کہ پاکستان کی طرف سے کوئی مداخلت نہیں ہو رہی۔ 
اللہ غریق رحمت کرے جنرل حمید گل ایک بات کہا کرتے تھے کہ جب امریکنوں نے افغانستان میں ڈیرے جمائے تو وہ کہتے تھے ’’افغانستان بہانہ ہے۔ پاکستان نشانہ ہے‘‘ آج سمجھ آتی ہے وہ سچ ہی کہتے تھے کیونکہ اصل نشانہ ہمارا ایٹمی پروگرام ہے جس کو ہم نے بھلے وقتوں میں امریکنوں کی آنکھوں سے اوجھل رہ کر مکمل کر لیا تھا اور جو آج امریکہ سے زیادہ بھارت کی جان کا عذاب بنا ہوا ہے۔ صدر ٹرمپ کے اس بیان پر سب سے شاندار تبصرہ آصف زرداری نے کیا ہے جو کہتے ہیں کہ صدر ٹرمپ نے وہی کہا جو میاں نواز شریف کہتے ہیں۔ میں جناب زرداری سے متعلق جو جذبات رکھتا ہوں اس سے آپ اچھی طرح آگاہ ہیں لیکن انہیں چونکہ پڑھنے اور جاننے کا شوق ہے اور خصوصاً عالمی سیاست پر ان کی میاں صاحب سے بہت زیادہ گہری نظر ہے۔ اس لیے میں ان کی تائید کرتا ہوں میاں نواز شریف نے اپنی جی ٹی روڈ یاترا میں، اس سے پہلے ڈان لیکس کے ذریعے، اس سے پہلے بزبان خواجہ آصف اور پرویز رشید جو بیانہ جاری کیا ہے جس کا پرچار دن رات ان کے ’’اسٹیبلشمنٹ دشمن‘‘ جانثار کرتے رہتے ہیں اس کا مرکزی نقطہ یہی ہے کہ سویلین تو دہشت گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں فوج نہیں چاہتی پاکستانی سیاستدانوں خصوصاً حکمران خاندانوں سے اس سے زیادہ کی توقع بھی نہیں کرنی چاہیے۔ جن کا مال، اولاد، مفادات پاکستان سے باہر ہیں انہیں ابھی دس بارہ سال مزید امریکہ کی ہاں میں ہاں ملانی پڑے گی اس کے بعد شاید چین اس پوزیشن میں آجائے کہ وہ اپنا ’’آقا‘‘ تبدیل کر لیں۔
اب آئیے بھارت کی طرف۔ پاکستان کو چاہیے بھارت کو دل کی گہرائیوں سے افغانستان میں خوش آمدید کہے۔ کیونکہ جیسے ہی بھارتی یہاں آئیں گے انڈیا میں ’’بھارتی طالبان‘‘ اپنا کام شروع کر دیں گے۔ ہم نے تو افغانستان میں منہ مارنے کی قیمت ایک لاکھ سے زیادہ جانوں اور کھربوں روپے نقصان کی صورت ادا کر دی ہے۔ بھارت بھی یہ مزا چکھ لے۔