جان دیو بادشاھو!

کسی بھی جنگلی معاشرے میں اس سے زیادہ کی توقع احمقوں کی جنت میں رہنے والی بات ہے۔ افسوس آزادی کے 70سال بعد بھی ہم ’’پاور پالیٹکس‘‘ یا پھر انتقامی سیاست کر رہے ہیں۔ جس میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور اپنی اہمیت جتانے کے لیے کسی بھی حد تک جایا جاتا ہے۔ آئی۔ایس۔پی۔آر کی بیشترنیوز کانفرنسیں یہ بتانے کے لیے منعقد ہوتی ہیں کہ فوج اور حکومت کے درمیان کوئی پھڈا نہیں چل رہا۔ سب اچھا ہے۔ کسی کو کسی سے کوئی شکایت نہیں۔ ادارے اپنی اپنی جگہ کام کررہے ہیں۔
خدا کے بندو اگر ایسی ہی آئیڈیل فضا قائم ہے تو آپ کو اس کے لیے پریس کانفرنس کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ انگریزی کے ایک مقولے کے مطابق آپ کے اعمال آپ کے الفاظ سے زیادہ بھاری ہوتے ہیں۔ جو دکھائی دے رہا ہے وہ کیا ہے؟ جو سنائی دے رہا ہے وہ کیا ہے؟ کوئی اگر اندھا اور بہرا نہیں ہے تو آپ اسے کیا سمجھانے پر تلے ہیں۔
جناب وزیراعظم، جناب ڈی جی آئی ایس پی آر صاحب حکومت اور ’’اسٹیبلشمنٹ‘‘ کے درمیان سب اچھا نہیں ہے۔ سابق وزیراعظم نے جی ٹی روڈ پر چلاّ چلاّ کر دہائی دی کہ انہیں زبردستی اقتدار سے الگ کیا گیا ان کے سارے بھونپو مسلسل چلا رہے ہیں کہ کسی وزیراعظم کو اقتدار کی مدت پوری نہیں کرنے دی جاتی۔ اس کے باوجود کہ ان کی ان بے سروپا باتوں پر ان کے اپنے ساتھی بھی مسکراتے ہیں اور باشعور اپنا سر پیٹ لیتے ہیں۔ وہ اپنے کام میں لگے ہیں۔ جناب والا! گزشتہ دس بارہ سال سے میاں صاحب نے اپنے ووٹرز اور پاکستان کے عام شہری کو صرف ایک ہی بات سمجھائی اور بتائی ہے کہ وہ تو پاکستان کو جاپان بنانا چاہتے ہیں لیکن انہیں کام ہی کرنے نہیں دیا جاتا۔ جب بھی وہ دودھ کی نہریں بہانے کی کوشش کرتے ہیں، انہیں کان سے پکڑ کر اقتدار سے الگ کر دیا جاتا ہے۔ میاں صاحب کا یہ واویلا دوران اقتدار بھی رہتا ہے اور اقتدار سے الگ ہونے کے بعد تو وہ باقاعدہ ڈھول بجا بجا کر اپنی مظلومیت کا پرچار کرتے ہیں۔
جناب محترم! اگر دو بندے لڑیں اور دونوں کے درمیان کوئی طاقتور صلح کرا کر یہ سمجھ لے کہ انصاف ہو گیا تو اس سے زیادہ احمقانہ بات کیا ہوگی؟ کسی کی غلطی ہوتی ہے کم یا زیادہ۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے خلیفہ بننے کے بغداپنے پہلے خطبے میں فرمایا تھا۔ خدا کی قسم جب تک میں ظالم کواس کا مظلوم کو ظلم کا انصاف نہ دلا دوں میں چین سے نہیں بیٹھوں گا۔ مظلوم کو انصاف تو سمجھ آتا ہے لیکن ظالم کا انصاف؟ یہی ہے جناب کہ اسے ظلم کی سزا دی جائے۔ 70سال سے ہم ہر بے انصافی، حرامکاری، دھاندلی، بدمعاشی، کرپشن اور غداری کو کسی نہ کسی ’’این آر او‘‘ کی بھینٹ چڑھا کر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ بلا ٹل گئی۔
نہیں جناب! آنکھیں بند ہوں تو بھی بلی کبوتر کو ہڑپ کر جاتی ہے۔ ریت میں گردن دبانے سے طوفان نہیں ٹلتا۔ اب آپ کو اپنی ترجیحات بدلنا ہوں گی۔ بہت ہو گئی جناب، اب اچھے اور برے کی شناخت کرنا ہو گی۔ اب صید اور صیاد کو ایک پنجرے میں جمع نہیں کیا جا سکتا۔ عوام کو بہت عقل آگئی ہے۔ لاہور کا ہر رکشہ والا جانتا ہے وکیلوں کی حالیہ ہنگامہ آرائی کا پس منظر کیا ہے؟ اگر کوئی روزانہ اخبار پڑھنے والا فاتر العقل نہیں ہے تو رانا ثناء اللہ کے وکلاء ہنگامہ آرائی کے حوالے سے دیئے گئے بیانات پڑھ کر کیا وہ اس کہانی پر یقین کرے گا کہ فلاں وکیل کا فلاں جج سے جھگڑا ہوا جس کا یہ شاخسانہ ہے؟ جناب محترم! پاکستانی عدالتوں میں ایسے جھگڑے معمول کی بات ہے لیکن اس پر اتنی شدت کی ہڑتال اور ہنگامہ آرائی؟ چہ معنی دارد؟ آپ کسے اندھا بنانے چلے ہیں۔ ہر باشعور پاکستانی جانتا ہے کہ ملتان بار کے صدر کا جغرافیہ کیا ہے؟ صحافیوں سے زیادہ محتاط کون ہوتا ہے؟ لیکن ان تک پہنچنے والی ’’خدائی امداد‘‘ کے ڈنکے بھی سارے شہر میں بج جاتے ہیں۔ یہاں چھپا کچھ نہیں رہتا۔ کون سی ایسی اہم حکومتی میٹنگ ہے جس کی خبریں دوران میٹنگ ہی میڈیا کو نہیں پہنچ جاتیں؟ پہنچانے والے ’’فرشتے‘‘ آسمان سے نہیں اترتے اسی زمین کے باسی ہوتے ہیں۔ اس ہنگامہ آرائی سے پہلے سارے شہر میں افواہ عام تھی کہ عدلیہ پر دبائو بڑھانے اور اپنی مرضی کے نتائج اور فیصلے حاصل کرنے کے لیے کیا کچھ ہونے والا ہے اور وہ کچھ ہو رہا ہے؟
جب بلاول زرداری اپنے باپ کو فرشتہ عمران خان اور میاں نواز شریف کو کرپٹ قرار دے تو اچھی طرح سمجھ آجاتی ہے کہ کس نوعیت کا این آر او ہونے جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر پاکستانی پرچم جلانے کی ’’واردات‘‘ کا پس منظر سوا اس کے کیا ہے کہ 15اگست کو بھارت میں سکھوں نے درجنوں مقامات پر اور دنیا بھر میں بھارتی ترنگے جلائے تھے۔ ’’را‘‘ نے اس کا انتقام بھی سیاست دانوں کو ’’کٹ آئوٹ‘‘ بنا کر لیا اور ابھی یہ سلسلہ مزید چلے گا۔ کراچی میں ایم کیو ایم کے دھڑوں کا اکٹھا ہونا؟ حضور آپ کس کو بے وقوف بنانے چلے ہیں؟ الطاف حسین کے تن مردہ میں جان ڈالنے کے لیے کراچی سے بھتہ کس کے ذریعے جا رہا ہے؟ ڈاکٹر شاہد مسعود اگر یہ بات جانتے ہیں تو ہم کوئی جھک نہیں مار رہے؟ جان دیو بادشاھو!