جنرل ضیاء الحق کا ’’یوم شہادت‘‘ (4)

1۔ جنرل کا جہاز جب بہاولپور ایئر پورٹ سے اُڑا تو وہ پرواز کے قابل تھا، اور پرواز کے دوران جہاز کے اندر کسی قسم کی آگ نہیں لگی اور نہ ہی جہاز کو گرنے سے قبل آگ لگنے کی وجہ سے حادثہ پیش آیا۔
2۔ جہاز میں الیکٹرک پاور معمول کے مطابق کام کررہی تھی چاروں پروپیلرز اور انجن بھی صحیح طریقے سے کام کررہے تھے۔
3۔ جہاز پرواز کے دوران فضا میں ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہوا تھا، بلکہ حادثے کا شکار ہونے تک وہ مضبوط حالت میں تھا، نہ ہی زمین سے طیارے کو میزائل یا راکٹ سے گرایا گیا تھا، پائلٹ اور معاون پائلٹ ذہنی اور جسمانی طور پر پرواز کے وقت مکمل طور پر فٹ تھے اور انہوں نے بہاولپور میں آرام کیا تھا نہ ہی ان کے ذہنوں پر کوئی دبائو تھا اور نہ ہی کسی ہنگامی حالت میں جہاز نے ایئر پورٹ سے پرواز کی تھی جس کی وجہ سے ان سے غلطی ہونے کا امکان ہو، پرواز کے وقت بہاولپور کا موسم بالکل واضح تھا اور فضا بالکل صاف تھی۔
4۔ جہاز کے ملبہ سے کوئی ایسا دھماکہ خیز مواد نہیں ملا جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکے کہ جہاز کے اندر بم رکھا گیا تھا اور اس کے پھٹنے کی وجہ سے جہاز تباہ ہوا، اسی طرح پاکستان میں امریکی فوجی مشن کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل ہربٹ مائیک واسم جن کے پھیپھڑوں کا کیمیکل تجزیہ کیا گیا ان سے بھی کسی دھماکہ خیز مواد کا پتہ نہیں چلا۔
5۔ جہاز کے تمام دروازے اندر سے بند تھے اور ان کو لاک لگے ہوئے تھے اور ایسا کوئی نشان نہیں ملا جس سے یہ ظاہر ہو کہ پرواز سے پہلے یا پرواز کے دوران جہاز کا کوئی حصہ کریک ہوگیا تھا۔ ان نتائج کو بیان کرنے کے بعد بورڈ نے رائے ظاہر کی جنرل کا سی 130 طیارہ ٹیکنیکل وجوہات کی بنا پر حادثے کا شکار نہیں ہوا تھا۔
سی 130 طیارے میں دو ہائیڈرالک سسٹم ہوتے ہیں ایک کو بوسٹر (Booster) جبکہ دوسرے کو یوٹیلیٹی (Utility) کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے اگرچہ یہ دونوں نظام ایک دوسرے سے بالکل علیحدہ ہوتے ہیں تاہم یہ اس وقت ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں جب ہائیدرالک سسٹم میں آلودگی وکثافت (Extensive Contamination) پائی گئی جس کی وجہ سے دونوں سسٹم متاثر ہوئے، اس طرح متعدد فلائٹ کنٹرول تاریں بھی ٹوٹی ہوئی پائی گئیں اور ان کے ذریعے ہائیڈرالک بوسٹر کنٹرول و الوز اور پائلٹ کے کنٹرول سسٹم بوسٹر ایکچوئیرراڈ اور ایلی ویٹر کے درمیان میکینکل رابطہ ہوتا ہے۔ سی 130 طیا زہ ساز کمپنی لاک ہیڈ کے انجینئروں کے مطابق یہ تاریں اور اوورلوڈ ٹینشن (Overload tension) کی وجہ سے ٹوٹی تھیں ایلی ویٹر بوسٹر پیکیج کے امریکہ میں تجزیہ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اس میں ایلمونیم اور پیتل کے ذرات کافی مقدار میں جمع ہوگئے تھے جس کی وجہ سے بہت زیادہ کثافت پیدا ہوگئی تھی۔ لاک ہیڈ کی رائے کے مطابق اس قدر کثافت (Contamination) انجن کو چلانے والے پمپ کے فیل ہوجانے یا (Maintenance) میں غفلت کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔
جہاز کے گرنے سے پہلے عدم توازن کا شکار ہوجانا اور کنٹرول کھو بیٹھنا اس امکان کو جنم دیتا ہے کہ شاید اس کے اندر کوئی تخریب کاری کی گئی ہو یہ تخریب کاری مختلف قسم کی ہوسکتی ہے۔
(1) یہ دانستہ طور پر جہاز کے اندر گڑ بڑ کرکے بھی کی جاسکتی ہے۔
(2) کاک پٹ کے اندر جسمانی مداخلت کرکے بھی جہاز کے کنٹرول کے نظام کو بگاڑا جاسکتا ہے۔
(3) مجرمانہ فعل کے ذریعے بھی جہاز کو چلانے والے عملے کے اعصاب کو ناکارہ کیا جاسکتا ہے۔
(4) اور مذکورہ مقاصد حاصل کرنے کے لیے جہاز کے اندر دھماکہ خیز مواد بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔
دوسرے جہازوں کے ایلی ویٹر بوسٹر کنٹرول کا مشاہدہ کرنے کے بعد انکوائری بورڈ نے خیال ظاہر کیا کہ یہ بھی ممکن ہے کہ صدارتی جہاز کے ایلی ویٹر بوسٹر کنٹرول میں جان بوجھ کر کثافت (Contamination) پیدا کی گئی ہو۔ لیکن یہ صرف وہی شخص کرسکتا ہے جسے اس کا تجربہ ہو اس کے پاس ضروری آلات ہوں اور اسے ایسا کرنے کے لیے موقع بھی میسر ہو۔ اگر تخریب کار تجربہ کار ہو تو اسے ایسا کرنے کے لیے صرف دو یا تین منٹ درکار ہوتے ہیں۔ چونکہ صدارتی طیارے کے کاک پٹ میں آواز ریکارڈ کرنے والا بلیک بکس نصب نہیں تھا۔ اس لیے وثوق کے ساتھ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ کاک پٹ کے اندر کس قسم کی جسمانی مداخلت کی گئی تھی۔ بورڈ کے خیال میں یہ دو طرح کی ہوسکتی ہے۔ جہاز کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کی گئی ہو یا اسے خودکشی کی کوششیں (Suicide attempt) کے ذریعے تباہ کیا گیا ہو۔ بورڈ کے خیال میں صدارتی طیارہ گرنے سے پہلے دو منٹ تک عدم توازن کا شکار رہا اس لیے کاک پٹ کے اندر جسمانی مداخلت کو (Physical interference) کے امکان کو تقویت ملتی ہے۔ 
جہاز کے عملے کے اعصاب کو ناکارہ بنانے کے لیے متعدد جدید طریقے اور زہریلی گیسیں استعمال کی جاتی ہیں اور اس قسم کی تخریب کاری کا آسانی کے ساتھ کھوج بھی نہیں لگایا جاسکتا، صرف ان کا تجربہ رکھنے والی تنظیم ہی اس قسم کی تخریب کاری کا کھوج لگاسکتی ہے، زہریلی مادے پر مشتمل چیز کو آسانی کے ساتھ تحائف کے پارسلوں، مشروبات کے ڈبوں، تیل کے کینوں اور تھرموس کے ذریعے جہاز کے اندر سمگل کیا جاسکتا ہے۔ کاربن مونو ایکسائیڈ جو بے رنگ اور بے بو گیس ہے اور جس کا پتہ بھی نہیں چلایا جاسکتا۔ اس کے ذریعے جہاز چلانے والے عملہ کے اعصاب کو ناکارہ بنایا جاسکتا ہے۔ کیونکہ یہ آکسیجن کے مقابلے میں 200سے 300 مرتبہ جلدی خون میں حل ہوجاتی ہے اور پائلٹ اور اس کے دوسرے ساتھیوں کو اس کا احساس تک نہیں ہوسکتا اور نہ ہی وہ اس کے خلاف انسدادی تدابیر اختیار کرسکتے ہیں۔
صدارتی طیارے کو چلانے والے عملہ نے نہ تو ہلمٹ پہن رکھے تھے اور نہ آکسیجن ماسکس (Oxygen Mask) ان کے ناک اور دہنوں پر تھے۔ بورڈ کے خیال میں اگر تباہ شدہ طیارے پر سوار نعشوں کا اچھی طرح پوسٹ مارٹم کیا جاتا تو اس زہریلی گیس کے استعمال کا پتہ چلایا جاسکتا تھا۔ مگر پوسٹ مارٹم نہ ہونے کی وجہ سے اس کا پتہ نہ چلایا جاسکا۔ ایسے اور بھی کچھ مفروضے اس رپورٹ میں زیر بحث آئے۔ پاک فضائیہ کے انکوائری بورڈ نے اپنی رپورٹ میں سفارش کی تھی کہ تخریب کاری اور جرائم کا پتہ چلانے والی کسی ایجنسی سے صدارتی طیارے کے حادثے کی مزید تحقیقات کرائی جائے۔ اس لیے صدر غلام اسحق خان نے وفاقی تحقیقاتی ادارے کو اس حادثہ کی تحقیقات کرنے کا حکم دیا، انٹیلی جنس بیورو اور مقامی پولیس کو ایف آئی اے کے ساتھ تعاون کرنے کی ہدایت کی گئی اور وفاقی سیکرٹری مسٹر ایف کے بندیال کو اس تحقیقات کا کوارڈینیٹر مقرر کیا گیا واضح رہے کہ حادثے کے تیسرے روز بعض خفیہ ایجنسیوں نے از خود تحقیقات کا آغاز کردیا تھا۔ انٹر سروسز انٹیلی جنس (ISI) کی ایک ٹیم نے 19 اگست 1988 ء کو جائے حادثہ پر عینی شاہدین کے بیانات قلمبند کیے فیڈرل انوسٹی گیشن بیورو کی ایک ٹیم نے بھی جائے حادثہ کا معائنہ کیا۔ اس طرح سپیشل برانچ پولیس نے بھی عینی شاہدین کے بیانات قلمبند کیے اور حادثہ کی ابتدائی تفصیلات جمع کیں۔ جب ایئر فورس کی ٹیم نے امریکی ماہرین کے ساتھ مل کر تحقیقات کا آغاز کیا تو بقیہ تمام پاکستانی ایجنسیوں نے یا تو اپنی تحقیقات بالکل روک دی یا اُسے سست کردیا۔ آئی ایس آئی فوج کی خفیہ ایجنسی ہے اور اسے تخریب کاری کے واقعات کا کھوج لگانے کا تجربہ بھی ہے مگر اسے صدارتی طیارے کو پیش آنے والے حادثے کی مکمل تفتیش میں نامعلوم وجوہات کی بنا پر مؤثر طریقے سے استعمال نہیں کیا گیا اور اسے ضمنی ایجنسی کے طور پر استعمال کیا گیا۔ ایف آئی اے کو تحقیقات ملنے کے بعد آئی ایس آئی نے اپنی انفرادی تحقیقات کا عمل روک دیا اور جہاں ایف آئی اے کو اس کے تعاون کی ضرورت پڑی اس نے ہاتھ بٹایا۔میں نے یہ تمام واقعات اس زمانے کی محفوظ ڈائری سے نقل کیے ہیں جس سے آپ کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ یہ تخریب کاری تھی اتفاقیہ حادثہ نہیں تھا۔