جنرل ضیاء الحق کا ’’یوم شہادت‘‘ (3)

 تاہم نامعلوم وجوہات کی بنا پر یہ طیارہ جس میں جنرل ضیاء، امریکی سفیر اور دوسرے فوج و فضائیہ کے 29 اعلیٰ افسران سوار تھے گر کر تباہ ہوگیا، حادثہ کے فوراً بعد پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل حکیم اللہ نے اس کی تحقیقات کا حکم دیا اور ایئر کموڈور عباس حسن مرزا کی سربراہی میں ایک انکوائری بورڈ تشکیل دیا گیا۔ اس کے دوسرے ارکان میں ایئر کموڈور مزمل سعید، ونگ کمانڈر ظہیر الحسن زیدی اور ونگ کمانڈر صباحت علی مفتی تھے جبکہ امریکی ماہرین کی چھ رُکنی ٹیم نے انکوائری بورڈ کی تکنیکی امور میں مدد کی انکوائری بورڈ کے پاکستانی ارکان حادثہ کے دوسرے روز بہاولپور پہنچ گئے جبکہ امریکی ماہرین کی ٹیم دو روز بعد بہاولپور پہنچی۔ ان کو بہاولپور کے سرکٹ ہائوس میں ٹھہرایا گیا۔ انکوائری بورڈ کے ارکان روزانہ صبح 9 بجے کے قریب جائے حادثہ پر پہنچ جاتے اور سورج غروب ہونے تک شواہد اکٹھے کرتے رہتے اور شام کو سرکٹ ہائوس واپس آکر ان کا تقابلی جائزہ لیتے اور آپس میں ان کے بارے میں بحث و تمحیص کرتے۔ سرکٹ ہائوس کے گرد فوج کا سخت پہرہ تھا اور کسی اخبار نویس اور دوسرے سول افسران (سوائے ان کے جن کی مدد کی ان کو ضرورت تھی) کو ان سے ملنے کی اجازت نہیں تھی۔ جائے حادثہ سے 5 سو فٹ دور پولیس و انتظامیہ کا کیمپ قائم کیا گیا۔ جہاں پولیس و انتظامیہ کے افسران و عملہ طیارے کے گرد نگرانی کرنے والے فوجی عملے اور تحقیقاتی ٹیم کی مدد کے لیے موجود رہتا۔ دو ڈاکٹر اور تین اعلیٰ سول آفیسر بھی ٹیم کے ارکان کی مدد کیلئے موجود تھے۔ تحقیقاتی ٹیم کے ارکان نے اپنی انکوائری کا آغاز عینی شاہدوں کے بیانات قلمبند کرنے سے کیا اور یہ بیانات دو مرتبہ لئے گئے۔ پہلی مرتبہ عینی شاہدین سے فرداً فرداً صرف یہ دریافت کیا گیا کہ انہوں نے کس طرح جہاز کو گرتے دیکھا تھا اور سبز رنگ کی اپنی نوٹ بکس میں بال پوائنٹس سے تحقیقاتی ٹیم کے ارکان ان بیانات کے اہم نکات کو درج کرتے۔ دوسری مرتبہ جب عینی شاہدین کے بیانات قلمبند کیے گئے تو ان کو سی 130 طیارے کا ایک ماڈل دکھایا گیا اور ان کے ہاتھوں میں دے کر ان سے کہا گیا کہ وہ اس ماڈل کو اسی طرح حرکت دیں اور گرائیں جس طرح جنرل کا سی 130 طیارہ گرا تھا۔ عینی شاہدین اس ماڈل کو اسی طرح اُوپر نیچے حرکت دیتے جیسے جنرل ضیاء کے طیارے کی گرنے کی کیفیت تھی پھر انہوں نے اس ماڈل کو زمین پر گرا کر بھی دکھایا۔ جب عینی شاہدین اس ماڈل کو گھمارہے تھے تو ساتھ ساتھ وہ مقامی زبان میں اس کی وضاحت بھی کررہے تھے۔ جسے تحقیقاتی ٹیم نے آڈیو کیسٹوں میں ریکارڈ بھی کیا۔ بعدازاں جائے حادثہ کی تصاویر بھی اُتاری گئیں، جس وقت تک تحقیقاتی ٹیم نے یہ کام مکمل کیا۔ اس وقت تک فوجی جوان تباہ شدہ طیارے کے ملبے کو جو تقریباً دو ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا تھا ،اکٹھا کرچکے تھے، جس میں طیارے کے چاروں انجن پروپیلرز ، دونوں پر (Wings) جہاز کے اندر جنرل کے خصوصی کیپسول اور دیگر تباہ شدہ حصے شامل تھے۔ جہاز چونکہ منہ کے بل زمین پر گرا تھا اور اس کی ناک تقریباً چھ فٹ تک زمین میں دھنس گئی تھی۔ اس لیے گرنے کے فوراً بعد جہاز کا پچھلا حصہ اگلے حصے سے علیحدہ ہوگیا اور اس کے دو ٹکڑے ہوگئے۔ پہلے تو جائے حادثہ کے اردگرد پھیلے ہوئے تباہ شدہ جہاز کے مختلف حصوں کو تلاش کرکے ایک جگہ جمع کیا گیا۔ بھاری حصوں کو اُٹھانے کے لیے کرینیں بھی استعمال کی گئیں اور یہ کام 24 اگست تک مکمل کرلیا گیا۔ 26 اگست کو ٹیم کے ارکان کی نگرانی میں فوجی جوانوں نے ان جگہوں کی کھدائی شروع کی جہاں تباہ شدہ جہاز کے بعض حصے دھنسے ہوئے تھے اور تقریباً چھ فٹ گہرے پانچ گڑھے کھودے گئے۔ 
تباہ شدہ جہاز کے جن حصوں کا معائنہ کرلیا جاتا انہیں اصل جگہ سے ہٹانے کی اجازت دے دی جاتی۔ ہر حصے کا مختلف آلات سے تجزیہ کیا جاتا۔ طیارے کے تین انجن تو آسانی کے ساتھ تلاش کرلیے گئے مگر چوتھے انجن کو تلاش کرنے کے لیے فوجی جوانوں اور تحقیقاتی ٹیم کے ارکان کو کافی تگ ودو کرنا پڑی اور وہ چوتھے روز جاکر ریت کے ایک حصے میں دھنسا ہوا ملا 26 اگست کو بھی تحقیقاتی ٹیم جہاز کے تباہ شدہ حصوں کا تجزیہ کرتی رہی۔ بعدازاں دوپہر کو وہ واپس سرکٹ ہائوس بہاولپور روانہ ہوگئی دوپہر کا کھانا کھانے اور تھوڑی دیر آرام کرنے کے بعد ٹیم کے ارکان گاڑیوں میں سوار ہوکر سیدھے بہاولپور ایئر پورٹ پہنچے۔ جہاں پہلے ہی ایک سی 130 طیارہ موجود تھا۔ وہ اس میں سوار ہوئے ،طیارے کو اُسی راستے اور اُسی بلندی پر جائے حادثہ کی طرف اُڑایا گیا۔ جس راستے اور بلندی پر جنرل ضیاء کے طیارے نے 17 اگست کو تین بجکر 46 منٹ پر بہاولپور ایئر پورٹ سے پرواز کی تھی اور پانچ منٹ کے بعد گر کر تباہ ہوگیا تھا۔ تحقیقاتی ٹیم کے سی 130 طیارے نے جائے حادثہ کے اُوپر پہنچ کر اس کے اردگرد تین چکر لگائے اور اس دوران ٹیم کے ارکان نے فضا سے جائے حادثہ کا مشاہدہ بھی کیا۔ بعدازاں یہ طیارہ سیدھا اسلام آباد کی طرف روانہ ہوگیا۔ امریکی ٹیم نے 4 ستمبر 1988ء تک ایئر فورس کے افسران کے ہمراہ بہاولپور میں انکوائری کی ۔
انکوائری بورڈ کی تمام تر تحقیقاتی جدوجہد کے نتیجے میں جو شواہد اکٹھے ہوئے اور ان کو دستاویزات کی شکل دی گئی وہ 350 صفحات پر مشتمل تھیں دو ماہ کی تحقیقات کے بعد انکوائری بورڈ کے سربراہ ائیر کموڈور عباس مرزا نے اپنی رپورٹ کا اعلان 17 اکتوبر 1988 ء کو ایک پریس کانفرنس کے ذریعے کیا۔ جائے حادثہ کے مشاہدے، جہاز کے تباہ شدہ حصوں کے تجزیے، عینی شاہدین کے بیانات، طیارے سے ملنے والی دستاویزات کے مطالعے کیمیکل تجزیہ، طبی تحقیق کے نتائج ، جہاز کو دیکھ بھال کرنے کے مروجہ طریقہ کار اور حفاظتی انتظامات کا جائزہ لینے کے بعد بورڈ اس نتیجے پر پہنچا کہ    (جاری ہے)