جنرل ضیاء الحق کا ’’یوم شہادت‘‘ (2)

بار بار درخواست کرنے کے باوجود اسے اجازت نہ دی گئی اور 10 ماہ بعد امریکی عوام کے دبائو کے تحت جب ایف ۔ بی۔آئی کی ٹیم پاکستان آئی تو وہ اسلام آباد میں کچھ دن گزار کر واپس امریکہ چلی گئی نہ اس نے سی 130 طیارے کے مسافروں کی نعشوں کا پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹروں سے ملاقات کی۔ نہ جائے حادثہ کا معائنہ کیا۔ نہ عینی شاہدین کو ملی اور نہ اس نے ایف آئی اے ملتان اور بہاولپور کے افسران، جو اس حادثے کی ستمبر 1988 ء سے تحقیقات کررہے تھے سے تبادلہ خیال کیا۔ ٹیم کے ارکان صرف ضیاء الحق اور جنرل اختر عبدالرحمن کے بیٹوں سے ملے۔ ان کے نقطہ نظر کو سنا اور جائے حادثہ سے ملنے والی جنرل ضیاء کی یونیفارم اور کچھ دیگر ذاتی اشیاء ان سے لیں۔ اس طرح امریکی سفیر اور بریگیڈیئر جنرل کی میتوں کو تابوتوں میں بند کرکے 21 اگست 1988 ء کو امریکہ روانہ کیا گیا تھا معمولات کی رسومات ادا کرنے کے بعد وہاں انہیں خاموشی کے ساتھ دفن کردیا گیا۔ حالانکہ امریکی جو بال کی کھال اتارتے ہیں چاہتے تو اپنے دونوں سفارت کاروں کی نعشوں کے حصوں کو تابوتوں سے نکلوا کر ان کا پوسٹ مارٹم (Autopsy) کرواسکتے تھے مگر اس کی ضرورت ہی محسوس نہ کی گئی ۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکی طیارے کو تباہ کرنے والے خفیہ ہاتھ کا پتہ چلانے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔ کیونکہ یہ اُن کا اپنا ہاتھ تھا۔ طیارے کی تباہی کے فوراً بعد سوویت یونین اور بھارت کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جانے لگا۔ تو سوویت یونین اور بھارت کے وزرائے خارجہ کے اعلیٰ حکام نے وہاں پر مقیم پاکستانی سفیروں کو طلب کرکے وضاحت کی کہ ان کا جنرل ضیاء الحق کے طیارے کی تباہی میں ہاتھ نہیں ہے اور اس قسم کے الزامات بے بنیاد اور قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں۔ جبکہ امریکی انتظامیہ نے سوویت یونین اور بھارت کے ساتھ دو اعلیٰ امریکی افسروں کے ہلاک ہونے پر نہ تو احتجاج کیا اور نہ ہی ان کو کسی قسم کی تنبیہ کی۔ 
بہاول پور میں اگرچہ جنرل کے دورے کو عموماً خفیہ رکھا گیا۔ مگر بہاول پور پولیس کو ایک دن پہلے چوکس کردیا گیا تھا اور 17 اگست کے دن پولیس حکام کو علم تھا کہ جنرل ضیاء آج بہاولپور میں ہیں۔ چونکہ جنرل ضیاء کے ملتان آنے کا کوئی پروگرام نہیں تھا۔ اس لیے ملتان کی انتظامیہ و پولیس کو جنرل کی مصروفیات کا علم نہیں تھا۔ جنرل کا طیارہ بہاولپور ائیر پورٹ سے تقریباً 13 میل کے فاصلے پر گر کر تباہ ہوگیا۔ بستی لال کمال تھانہ لودھراں کے علاقہ میں واقع ہے اور تھانہ لودھراں سے اس کا فیصلہ تقریباً 14 کلو میٹر ہے۔حادثہ کی اطلاع ملنے کے فوراً بعد مجھے مجید نظامی صاحب نے بہاولپور روانہ کیا اُن دنوں چونکہ میں صحافت میں نووارد اور خاصا پرجوش تھا اس لیے اس حادثے پر بھی تین چار آرٹیکل لکھے، موقعہ واردات پر گیا اور تفصیلات اکٹھی کیں۔
حادثہ کی اطلاع ملتے ہی تھانہ لودھراں کے انسپکٹر مسٹر حبیب گھمن، سب انسپکٹر محمد غنی اے۔ ایس، آئی محمد حنیف، اے ، ایس، آئی عبدالغنی اور کچھ سپاہیوں کے ہمراہ جائے حادثہ پر پہنچے۔ وہاں پر لودھراں کے اسسٹنٹ کمشنر شیخ حامد نواز، ریذیڈنٹ مجسٹریٹ سردار غلام مصطفی ڈوگر ۔ ڈی ایس، پی لودھراں مسٹر یوسف باجوہ، میجر بشیر احمد اور 25 بریگیڈ کے کمانڈنٹ بریگیڈیئر سعید الحسن زیدی پہلے ہی موجود تھے۔ مسٹر گھمن نے وہاں پر کچھ دیہاتیوں کو جب یہ کہتے سنا کہ اُنہوں نے جہاز کو گرتے ہوئے دیکھا ہے تو اُنہوں نے ان کے نام، ولدیت اور پتے نوٹ کرلیے ،اسی اثنا میں بہاولپور رینج کے ڈی آئی جی مسٹر اختر حیات، ملتان رینج کے ڈی آئی جی میجر ضیاء الحسن بہاول پور کے ایس ایس پی مسٹر ہمایوں شفیع اور ملتان کے ایس ایس پی مسٹر طلعت محمود بھی جائے حادثہ پر پہنچ گئے۔ چونکہ تباہ شدہ بدقسمت طیارے کے ملبے کے اردگرد فوجی جوانوں نے گھیر ڈال کر ملبے سے نعشوں کو نکالنے کی کارروائی سے پولیس کو علیحدہ کردیا تھا اس لیے وہاں پر پولیس کا کوئی رول نہ رہا۔ پھر بھی اعلیٰ پولیس افسران اور ان کا ماتحت عملہ فوج کی مدد کے لیے جائے حادثہ پر موجود رہے۔ اس وقت افراتفری کا عالم تھا۔ کسی کو کسی کا ہوش نہ تھا، پولیس افسران اور سپاہی ایک طرف کھڑے ہوکر خاموشی کے ساتھ تباہ شدہ طیارے کے ملبے سے نعشوں کو تلاش کرنے کے عمل کا مشاہدہ کررہے تھے جو رات کے آٹھ بجے شروع ہوا اور دوسرے روز صبح 9 بجے تک جاری رہا۔ 
دوسرے روز بہاول پور میں جہاز کے حادثہ میں جاں بحق ہونے والوں کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی اور ان کے تابوت لاہور، راولپنڈی اور پشاور روانہ کئے گئے۔ انتظامیہ اور پولیس کے اعلیٰ حکام اس روز ان کاموں میں مصروف رہے اور اُن میں سے کسی نے بھی پولیس کو طیارے کے حادثہ کے واقعہ کا مقدمہ درج کرنے کا حکم نہ دیا اور نہ ہی پولیس نے از خود اس سانحہ کا مقدمہ درج کیا۔ 18 اگست کی شام کو میں نے لودھراں پولیس سے رابطہ قائم کرکے دریافت کیا کہ آیا جنرل کے طیارے کی تباہی کے واقعہ کا مقدمہ درج کیا گیا ہے جواب ملا ’’ طیارے نے بہاولپور ائیر پورٹ سے پرواز کی تھی اس لیے وقوعہ تھانہ جنرل بہاولپور کا بنتا ہے، مقدمہ وہاں درج ہوا ہوگا۔‘‘ جب تھانہ جنرل کے انچارج سے رابطہ قائم کیا گیا تو اس کا نقطہ نظریہ تھا کہ ’’ یہ درست ہے کہ جنرل کا جہاز بہاول پور ائیر پورٹ سے اُڑا ہے مگر وہ ضلع ملتان کی حدود میں گرا ہے۔ اس لیے وقوعہ تھانہ لودھراں کا بنتا ہے۔ اور بہاولپور پولیس اس سلسلے میں کچھ نہیں کرسکتی۔‘‘ دونوں طرف سے ملنے والا جواب میرے لیے بڑا حیران کن تھا اور میں سوچ میں پڑ گیا کہ یہ کتنی عجیب بات ہے کہ دونوں اضلاع کی پولیس جنرل کے طیارے کو پیش آنے والے حادثہ کا مقدمہ درج کرنے سے احتراز کررہی ہے۔ جب ملک کے جنرل کے معاملے میں پولیس کا یہ رویہ ہے تو ایک عام آدمی کے بارے میں اس کا رویہ کیا ہوتا ہوگا۔ چنانچہ میں نے اس واقعہ کی خبر اپنے اخبار کو ٹیلیکس کردی۔ جو 19 اگست کو روزنامہ نوائے وقت اور دی نیشن لاہور میں شائع ہوئی۔ 
اس روز انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب مسٹر نثار احمد چیمہ لاہور سے ملتان آئے اور سیدھے جائے حادثہ پر گئے۔ اس دوران اُنہوں نے ملتان اور بہاولپور کے ڈی آئی جی اور ایس ایس پی صاحبان سے اس حادثہ کے بارے میں تبادلہ خیال کیا اور اسی روز شام کو لاہور واپس جاتے ہوئے ملتان کے ایس ایس پی مسٹر طلعت محمود کو سانحہ بستی لال کمال کی ایف ۔ آئی۔ آر درج کرنے کی ہدایت کرگئے۔ آج جنرل اسلم بیگ کچھ بھی کہتے رہیں تب انہوں نے مختصر بیان بھی جاری کیا تھا لیکن اُن کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگالیں کہ 72 گھنٹے کے بعد جنرل کے طیارے سی 130 کو پیش آنے والے حادثہ کی ایف آئی آر تھانہ لودھراں کے انسپکٹر حبیب گھمن نے درج کی۔ مگر پھر بھی باقاعدہ مقدمہ درج نہ کیا گیا اور نہ ہی باقاعدہ تفتیش کا آغاز کیا گیا۔ غالباً اس کی وجہ یہ تھی کہ پاکستان ائیر فورس کی ایک ٹیم ائیر کموڈور عباس مرزا کی سربراہی میں امریکی ماہرین کے ساتھ مل کر طیارے کی تباہی کی تحقیقات کررہی تھی۔ اس طرح پاک آرمی، انٹرسروسز انٹیلی جنس، انٹیلی جنس بیورو اور دیگر اداروں کی ٹیمیں بھی اپنے طور پر تحقیقات کررہی تھیں۔ لودھراں پولیس کا کام صرف یہ تھا کہ وہ جائے حادثہ سے پانچ سوفٹ دُور قائم کیے گئے پولیس کیمپ میں ان افراد کو جنہوں نے طیارے کو گرتے دیکھا تھا روزانہ صبح لے کر آتی اور شام تک اُنہیں وہاں بٹھائے رکھتی، مختلف تحقیقاتی ٹیموں کے ارکان جب جائے حادثہ کا معائنہ کرنے آتے تو پولیس عینی شاہدین کو ان کے سامنے پیش کرتی۔ وہ ان سے جائے حادثہ سے متعلق مختلف سوالات کرتے اور اُن کے جواب نوٹ کرکے چلے جاتے۔
 پولیس کیمپ میں لودھراں کے اسسٹنٹ کمشنر، تحصیلدار، ڈی۔ ایس۔ پی اور دیگر افسران فوج کی مدد کے لیے صبح سے شام تک موجود رہتے۔ عینی شاہدین ایک ماہ تک لودھراں پولیس کی زیر نگرانی رہے دلچسپ امر یہ ہے کہ تھانہ لودھراں کی پولیس حادثہ رونما ہونے کے تیسرے روز جائے حادثہ کا نقشہ بنوانے کے لیے پٹواری کو لے کر گئی اور سارا دن اُسے کیمپ میں بٹھائے رکھا۔ مگر فوجی افسران نے پٹواری کو جائے حادثہ کا نقشہ بنانے کی اجازت نہ دی۔ اس طرح سول یا پولیس کے کسی افسر کو اجازت نہیں تھی کہ وہ اجازت کے بغیر جہاز کے ملبے کے قریب آئے ۔پولیس کے افسران اور سپاہی روزانہ کیمپ میں پہنچ جاتے اور شام کو واپس تھانہ لودھراں آجاتے۔ اس طرح 28 دن گزر گئے مگر جنرل کے طیارے کی تباہی کا نہ کوئی مقدمہ درج کیا گیا اور نہ ہی باقاعدہ تحقیقات کی گئی۔ اس کے بعد 13 ستمبر 1988 ء کو اعلیٰ حکام کی ہدایت پر لودھراں پولیس نے نامعلوم ملزمان کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 120,302 اور ایکسپلوزوایکٹ (Explosive Act) کی دفعہ 3 اور 4 کے تحت مقدمہ درج کیا۔ جس کا نمبر 252/88 تھا۔ مقدمہ کے اندراج کے صرف چار دن اور حادثہ رونما ہونے کے ٹھیک ایک ماہ بعد یعنی 17 ستمبر 1988ء کو صدر مسٹر غلام اسحاق خاں نے وفاقی تحقیقاتی ادارے کو اس حادثہ کی ازسر نو تحقیقات کرنے کا حکم دیا۔ انٹیلی جنس بیورو اور مقامی پولیس کو اس کی مدد کرنے کی ہدایت کی گئی۔ اس طرح اس حادثہ کی تحقیقات (Criminal point of view) سے شروع ہوئی۔ تاہم اس وقت تک حادثہ کے بیشتر شواہد ضائع ہوچکے تھے۔
بستی لال کمال کے نزدیک 17 ، اگست کو تباہ ہونے والے سی 130 طیارے کا تعلق پاکستان ائیر فورس سے تھا۔ اس کی نگہداشت اور دیکھ بھال کی تمام تر ذمہ داری بھی ایئر فورس کی تھی۔
(جاری ہے)