اگست یوم سیاہ اور حالات حاضرہ (1)

پاک بھارت تاریخ میں شاید 70سال کے بعد پہلی مرتبہ بھارتی حکومت کو یہ روز بد دیکھنے کو ملا ہے جب بھارت کی تمام اقلیتوں نے 15اگست کو بطور یوم سیاہ منایا ہے ان میں سکھ پیش پیش ہیں، اب تک کی اطلاعات کے مطابق پنجاب اور ہریانہ کے پندرہ شہروں میں جن میں پنجاب کا دارالحکومت چندی گڑھ بھی شامل ہے۔ سکھوں نے بھارتی ترنگا جلا کر بھارتی حکومت سے اپنی نفرت اور غصے کا اظہار کیا ہے۔ یہ صرف بھارت ہی نہیں برطانیہ، امریکہ، کینیڈا، سکنڈے نیویا، آسٹریلیا غرض دنیا کے ہر قابل ذکر ملک میں جہاں سکھ آباد ہیں اور وہاں کے قوانین انہیں آزادی رائے کا حق دیتے ہیں سکھوں نے بھارتی ترنگا جلاکر، اسے جوتوں سے مسل کر اپنی نفرت اور غصے کا اظہار کیا ہے جبکہ دیگر اقلیتوں نے سیاہ پرچم لہرائے اور چوری چھپے بھارتی ترنگا بھی جلایا کیونکہ اس کے بغیر بھی ان کی زندگی جہنم بن چکی ہے اور ان حالات میں اگر یہ عمل سکھوں کی طرح وہ میڈیا کے سامنے دھراتے تو اس کی قیمت انہیں مکمل نسل کشی کی شکل میں ادا کرنی پڑتی۔
بھارتی حکومت کا جھوٹ بنگال کے جادو کی طرح سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ 1984ء سے اب تک یعنی 33سال بعد بھی سکھوں نے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو فراموش نہیں کیا بلکہ آئے روز ان کی بھارتی حکومت خصوصاً براہمن سامراج سے نفرت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ آج بھارتی سوشل میڈیا میں آپ کو جوتوں پر بنے بھارتی ترنگے، سیاہ ماتمی پرچم جگہ جگہ لہراتے دکھائی دیں گے۔ پنجاب کے درودیوار ’’ریفرنڈم خالصتان 220، 15اگست یوم سیاہ، خالصتان زندہ باد‘‘ کے نعروں سے بھرے دکھائی دے رہے ہیں جس پر کیپٹن امریندر سنگھ سرکار کے لیے مرکزی حکومت کو اپنی صفائی پیش کرنا ممکن نہیں رہا۔
’’را‘‘ کی طرف سے افغانستان میں قائم کردہ پراپیگنڈہ سیلز کی طرف سے پاکستانی میڈیا میں بے پناہ زہر پھیلانے ، بلوچستان اور کراچی میں دہشت گردی کی مجرمانہ سرگرمیوں کو ہوا دینے کے باوجود الحمد للہ آج پاکستانی اقلیتیں مطمئن اور مسرور ہیں جب وہ خصوصاً بھارت میں غیر براہمن اقلیتوں کے احوال سے آگاہ ہوتے ہیں تو شکر کرتے ہیں کہ وہ پاکستان کے شہری ہیں۔ آج آپ کو بھارت اور غیر ممالک میں رہنے والے سینکڑوں سکھوں اور چھوٹی ذات کے ہندوئوں کی وہ پوسٹیں دکھائی دیں گی جن میں وہ پاکستان میں اپنے بزرگوں کی گزری زندگی کے واقعات بیان کرتے ہوئے جذباتی ہو جاتے ہیں اور بہت دکھی دل سے یہ بات لکھ رہے ہیں کہ کاش وہ بھارت کے بجائے پاکستان کے شہری ہوتے۔ براہمن سامراج جو آر۔ایس۔ایس اور شیوسینا کے روپ میں آج بھارت کے کونے کونے میں موجود اور اپنی اصلیت مکمل بے نقاب کر چکا ہے برصغیر کے ہر باشعور انسان کو یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ قائداعظمؒ نے 23مارچ 1940ء کو جو فیصلہ کیا تھا اس نے مسلمانوں کو سپین جیسے بڑے سانحے سے بچا لیا۔ 2017ء میں یہ بات تاریخ کا ہر طالب علم کہنے پر مجبور ہے کہ اگر پاکستان کا قیام عمل میں نہ آتا تو خدانخواستہ ہمارا اس خطے سے نام و نشان ہی مٹ جاتا۔ بھارتی حکومت نے مسئلہ کشمیر کو محض بگاڑنے کے لیے اسے پاکستان اور بھارت کے بجائے عالمی مسئلہ بنا کر اپنی دانست میں اپنا الو سیدھا کرنے کی کوشش کی تھی لیکن اس کا نتیجہ کیا نکلا؟ مقبوضہ کشمیر میں ہر نیا دن کشمیری مسلمانوں کی طرف سے آزادی کی نئی امنگ اور ترنگ کے ساتھ طلوع ہوتا ہے اور بھارتی مقبوضہ فوج کے خلاف کشمیریوں کی نفرت میں بے پناہ مظالم کے باوجود زیادہ شدت آتی جا رہی ہے۔
14اگست کی تقاریب آزادی میں حصہ لینے کے لیے چینی نائب وزیراعظم کی پاکستان آمد اس بات کا اعلان ہے کہ چین کی دوستی پاکستانی حکمرانوں کے نہیں عوام اور ریاست کے ساتھ ہے اور کسی کے آنے یا جانے سے گوادر منصوبے پر کچھ فرق نہیں پڑتا۔ اقتصادی راہداری پہ بھارت کی جانب سے کیا جانے والا پہلا اعتراض ہی یہ تھا کہ یہ تجارتی گزرگاہ اس متنازعہ علاقے سے گزرے کی جو درحقیقت ہندوستان کا حصہ ہے۔ مسئلہ کشمیر کی ایک پیچیدہ جہت یہ بھی ہے کہ ہمارے شمالی علاقہ جات گلگت و بلتستان بشمول سیاچن گلیشئر کے علاوہ بھارت میں واقع لداخ کے پہاڑی سلسلے بھی متنازعہ علاقوں میں شمار ہوتے ہیں۔ معاملہ محض لداخ تک محدود نہیں۔ بھارت، اکسائی چن کے علاقے پہ بھی دعوے دار ہے۔ اکسائی چن اس وقت چین کا حصہ ہے۔ 1962-63ء میں طے پانے والے پاک چین سرحدی معاہدے کے تحت دونوں ممالک نے اس خطے میں سرحدوں کے متعلق پائے جانے والے ابہام کو پر امن طریقے سے طے کر لیا تھا۔ بھارت کواس معاہدے پہ اعتراض رہا ہے اور وہ چین کے زیر انتظام لداخ اور اکسائی چن کے علاقوں کا دعوے دار ہے۔ معاملہ یہیں پہ ختم نہیں ہوتا۔
تبت کے معاملے پہ بھارت کا سازشی موقف اور دلائی لامہ کی کھلم کھلا پشت پناہی کوئی راز کی بات نہیں۔ یہاں یہ امر نہایت قابل غور ہے کہ تبت کے وسیع و عریض علاقے کا ایک حصہ اکسائی چن سے ملحق ہے۔ یہ وہی علاقہ ہے جس پہ قبضے کی کوشش میں بھارت چین کے ہاتھوں 1962ء کی جنگ میں ہزیمت اٹھا چکا ہے۔ حالیہ بھارت چین سرحدی تنازعہ کو بہتر انداز میں سمجھنے کے لیے درج بالا حقائق کو ذہن میں رکھتے ہوئے کچھ اہم نکات پہ غور کرنا بے حد ضروری ہے۔ اول ڈوکلم کا علاقہ دراصل چین اور بھوٹان کا دو طرفہ سرحدی معاملہ ہے۔ بھارت اس معاملے میں تیسرے فریق کی حیثیت سے ٹانگ اڑا رہا ہے۔ دوئم، جس سڑک کی تعمیر پہ بھارت نے اعتراض اٹھایا ہے وہ مستقبل میں تبت کے ذریعے اکسائی چن سے زمینی رابطہ استوار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ سوئم، ڈوکلم پہ سڑک کی تعمیر سے چین ان بلند و بالا علاقوں تک رسائی حاصل کر لے گا۔ جو شمال مشرقی علاقوں میں تعینات بھارتی افواج پر نظر رکھنے اور حربی برتری دلانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ شمالی مشرقی بھارت میں آسام، اور ناگا لینڈ سمیت بیشتر علاقوں میں علیحدگی کی تحریکیں جاری ہیں۔ چہارم، بھارتی صحافی روہت وائس کے مضمون 
(Truth mapped out- India can not afford to have china controling dokalam plateau)
کے مطابق چین سے سرحدی تنازعہ میں الجھنے والی بھارتی فوج کا کیمپ بھوٹان میں واقع ہے۔ مصنف نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ڈوکلم چین کے زیر انتظام وادی چمبی، بھوٹان اور بھارت کے زیر انتظام سکم کے سرحدی علاقوں کی واضح حد بندی ظاہر کرنے والا کوئی نقشہ دستیاب نہیں۔ خود مصنف نے اپنے موقف کو ثابت کرنے کے لیے گوگل میپ اور سیٹلائٹ سے حاصل کردہ تصاویر پہ اپنی من مانی لکیریں کھینچ کے بھارتی موقف کو بیان کیا ہے۔
اس معاملے میں دو باتیں نہایت قابل غور ہیں۔ اول، بھارت کی افواج بھوٹان کے علاقے میں کیمپ قائم کیے ہوئے ہیں۔ دوئم، سرحدی تقسیم کو ظاہر کرنے والا کوئی مستند نقشہ دستیاب نہیں۔ خطے میں جاری کشمکش کو سمجھنے کے لیے اس تاریخی حقیقت کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ برصغیر پہ برٹش راج کے دوران کئی مرتبہ چین کے علاقوں پہ قبضہ کیا گیا۔ اس روش سے جنم لینے والے سرحدی تنازعات کو سلجھانے کے لیے 1846ء سے 1947ء تک کئی مرتبہ دو طرفہ کاوشیں ہوئیں۔ جن کے نتیجے میں سرحد بندی کے لیے جانسن لائن، میکارٹنی، میکڈونلڈ لائن اور میک موہن لائن کو اختیار کیا جاتا رہا۔ 1947ء میں برطانیہ تو رخصت ہو گیا لیکن اس کے چھوڑے ہوئے سرحدی تنازعات اور توسیع پسندی کی پالیسی کو نہرو نے گلے لگا لیا۔ نہرو نے بھارت کی خارجہ پالیسی کو جس منفی ڈگر پہ ڈالا آج پورا خطہ اس کا خمیازہ بھگت رہا ہے۔ گرداسپور، حیدر آباد دکن اور مونا بائو کی صورت ریڈ کلف ایوارڈ پہ پاکستان سے ہونے والی نا انصافی کا ذکر فی الحال میں نہیں کر رہا کسی اگلی نشست میں عرض کروں گا۔     (جاری