70واں یوم آزادی؟

پاکستان کا الحمد للہ 70واں یوم آزادی ہم اگلے چار روز بعد منانے جا رہے ہیں۔ آج بھی آپ کو کہیں کوئی ایسا بزرگ دکھائی دے جس نے 1947ء کی ہجرت کا تجربہ کیا ہو تو کچھ وقت نکال کر ان سے یہ ضرور پوچھیں کہ 40لاکھ جانوں اور عزتوں کا نذرانہ دیتے وقت کیا انہوں نے کبھی یہ سوچا تھا کہ جس مملکت خداداد پاکستان کی طرف وہ ہجرت کر رہے ہیں وہاں یہ کچھ ہو گا جو وہ آج اپنی لہو روتی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں؟ ملک کے عام شہری جن کی حیثیت حشرات الارض سے زیادہ کبھی کچھ نہیں رہی، ان کا تو ذکر ہی کیا پاکستان میں تین مرتبہ وزیراعظم ایک مرتبہ وزیراعلیٰ اور مسلسل پچیس تیس سال سے کار زار سیاست میں اپنی خصوصی اہمیت کے ساتھ موجود رہنے والے سابق وزیراعظم یہ کہیں کہ انہیں سپریم کورٹ نے بھی انصاف نہیں دیا اور اب نیب کیسز میں بھی انہیں انصاف نہیں ملے گا جن کی کارروائی ابھی شروع نہیں ہوئی۔ اگر میاں نواز شریف کو پاکستانی فوج، عدالتوں، خفیہ اداروں (شاید اسٹیبلشمنٹ سے ان کی یہی مراد ہے) پر اعتماد نہیں رہا تو عام پاکستانی ان پر اعتماد کیوں کرے؟ لیکن سب سے پہلے ان کی بطور سیاستدان کارکردگی پر ہی سوال اٹھے گا کہ آپ نے پھر 25سال جھک کیوں ماری؟ منافقت کی کوئی انتہا ہوتی ہے آپ کو بہت پہلے یہ انکشافات کر کے خود کو انقلابی لیڈر اور قائداعظم کی مسلم لیگ کا وارث ثابت کرنا چاہیے تھا۔ آپ کیوں ’’این آر او‘‘ کا درجہ بدرجہ حصہ بنتے رہے؟ لندن میں میثاق جمہوریت کی اہم شرط یہ تھی کہ کوئی سیاسی جماعت فوج کے سرونگ جنرلز سے ملاقات نہیں کرے گی۔ دستخط کرنے کے چند دن بعد محترمہ بے نظیر بھٹو نے دبئی میں جنرل مشرف سے خفیہ ملاقات کی تاکہ این آر او ڈیل فائنل کی جا سکے۔ پاکستان واپسی پر میاں شہباز شریف نے جنرل کیانی سے خفیہ ملاقاتیں کیں۔ دور کیا جائیے دو روز پہلے بھی آپ نے جی ایچ کیو میں جنرل باجوہ سے ملاقات کی ہے۔ درجنوں مرتبہ چوہدری نثار علی کے ساتھ جرنیلوں سے ملاقاتیں کرتے رہے ہیں۔
اصل میں یہی وہ تضاد ہے جو آپ کے ارشادات کو بے وزن اور بودے دلائل بنا دیتا ہے۔ اگر میں ایسی ہی انقلابیت در آنی ہے تو پھر کمپرومائز اور سمجھوتہ کیوں؟ اور کن شرائط پر؟ کبھی ہمت کر کے قوم کو یہ بھی بتا دیں۔ اس میں قباحت ہی کیا ہے؟ آج کل تو ویسے بھی آپ کچھ کہنے سے نہیں ٹلتے۔ پاکستان کے اردگرد کیا قیامتیں سر اٹھا رہی ہیں اور ہم کیا کر رہے ہیں؟حقیقت یہ ہے کہ اس وقت سیاستدانوں کی اکثریت ایک دوسرے پر الزام تراشی میں مصروف ہے، جس کی وجہ سے اکثر حکومتی کام ٹھپ پڑے ہوئے ہیں اور عوام کے بنیادی مسائل پر توجہ ہونے کے بجائے ذاتی، خاندانی اور گروہی مفادات کی سیاست عروج پر ہے، جس کی وجہ سے قومی سلامتی کو لاحق خطرات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ان حالات میں ایک طرف عدلیہ اپنا مثبت کردارادا کرتے ہوئے ملک کو مالی دہشت گردوں سے نجات دلانے میں مصروف ہے تو دوسری طرف افواج پاکستان بھی اپنے آئینی فرائض سے غافل نہیں۔ فوج کا کام صرف سرحدوں اور ملک کے نظرئیے کی حفاظت کرنا نہیں، بلکہ وطن عزیز کو اندرونی شورشوں اور سازشوں سے محفوظ رکھنا بھی اس کی ذمے داریوں میں شامل ہے۔ اسی تناظر میںآرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے قوم کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ملک میں قانون کی حکمرانی اور رٹ قائم کرنے کے لیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جائے گا۔ ملکی ترقی اور خوشحالی کے لیے سب کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ہم ایک ایسے پرامن معاشرے کی طرف بڑھ رہے ہیں، جہاں ہر طرف ریاست کی عملداری ہو گی اور کوئی قانون سے بالاتر نہیں ہو گا۔ فوجی قیادت سول سوسائٹی پر زور دے رہی ہے کہ قانون کی بالادستی یقینی بنانے کے لیے وہ اپنا کردار ادا کرے۔ ملک کی سیاسی قیادت، مختلف ادارے اورنوکر شاہی کے افسران پر اس کی سب سے زیادہ ذمے داری عائد ہوتی ہے لیکن وہی ملک کو بحرانوں سے دو چار کرنے اور قومی وسائل کی لوٹ کھسوٹ میں مصروف ہیں۔ اس پر طرہ یہ کہ عوام کی خدمت کے دعوے بھی کرتے ہیں، حالانکہ انہوں نے اپنی ذات، خاندانوں، گروہوں اور عزیز و اقارب کے سوا کسی کو کچھ نہیں دیا ہے۔ انفراسٹرکچر کی صورت میں جو کچھ نظر آرہا ہے، اس کے نیچے اور پیچھے بھی ان کے کاروباری مفادات ہیں جن کی تفصیلات سے ہر باخبر پاکستانی بخوبی آگاہ ہے۔
معمولی مفادات کے لیے جرنیلوں سے خفیہ ملاقاتیں اور مذاکرات کرنے والے جمہوری بچہ جمورے دن رات جمہوریت کا راگ الاپیں تو اس سے بڑی منافقت اور کیا ہو گی۔ دہشت گردوں کی سرپرستی میں ملوث اور لوٹ کھسوٹ میں مصروف عناصر میں سے جس کی دم پر پیر پڑتا ہے، وہی چیخنے اور دہائی دینے لگتا ہے کہ صرف ہمارے خلاف کارروائی ہو رہی ہے۔ دوسروں کو کوئی کچھ نہیں کہتا۔ آپریشن ضرب عضب، نیشنل ایکشن پلان، آپریشن رد الفساد اور عدالتوں میں مقدمات سمیت ملک کی حالیہ تاریخ گواہ ہے کہ کبھی ایم کیو ایم، کبھی سندھ حکومت اور کبھی حکمراں مسلم لیگ کے لوگ یہ کہتے نظر آئے کہ صرف انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اپنے آپ کو بے گناہ ثابت کرنے سے زیادہ اس امر پر زور دیا جاتا ہے کہ فلاں اور فلاں بھی تو کرپٹ، خائن اور لٹیرا ہے۔ اسے کیوں سزا نہیں دی جاتی۔ یہ بالواسطہ طور پر اعتراف ہوتا ہے کہ ہمارے بدعنوان ہونے میں تو کوئی شک نہیں، لیکن دوسروں کو بھی تو گرفت میں لیا جائے۔ اس کے بعد مایوسی کے عالم میں کبھی عدالتوں اور کبھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سب وشتم کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اعلیٰ عدالتوں سے شکایت کی جاتی ہے کہ وہ ہر معاملے کا از خود نوٹس کیوں نہیں لیتیں، حالانکہ عدالتوں میں موجود مقدمات کی تعداد ہی اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ ان کے فیصلوں میں بعض اوقات کئی ماہ اور کبھی برسوں لگ جاتے ہیں۔ ایک دوسرے پر الزام تراشی کرنے والے سیاستدانوں اور اعلیٰ حکام کو چاہیے کہ جس کو قانون شکن اور لٹیرا کہتے ہیں، اس کے خلاف مقدمات خود لے کر عدالتوں میں جائیں اور انصاف کی استدعا کریں۔ اسی طرح ایک موضوع یہ زیر بحث ہے کہ ملک کو سیاستدانوں نے زیادہ نقصان پہنچایا یا فوجی آمروں نے۔ جمہوریت کی دہائی دینے والے سیاستدان اکثر کہتے رہتے ہیں کہ اگر ملک میں فوجی حکومتیں قائم نہ ہوتی اور جمہوری نظام کو پٹڑی سے نہ اتارا جاتا تو پاکستان آج ترقی یافتہ قوموں کی صف میں شامل ہوتا۔ لیکن کوئی سیاستدان یہ بتانے کے لیے تیار نہیں کہ فوجی حکومتیں سیاستدانوں کی بداعمالی، بدعنوانی، قومی دولت کی لوٹ کھسوٹ اور وطن عزیز کو ان کی جانب سے شدید خطرات لاحق کرنے کے نتیجے میں قائم ہوئیں، بلکہ اکثر کو تو خود سیاستدانوں نے دعوت دی۔ سیاسی حکومتوں نے بد انتظامی اور عوام کو بنیادی ضروریات سے محروم کر کے خود اپنی تجوریاں بھرنے کے جو کارنامے انجام دیئے، اس کے ثبوت حاصل کرنے کے لیے کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں۔ ایک ایک سیاستدان الا ماشاء اللہ کا معیار زندگی اور اس کے پاس موجود عیش و عشرت کا سامان دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اس طبقے نے ملک و قوم کی ترقی، خوشحالی اور فلاح و بہبود کے لیے کوئی کام کیا ہے۔ اپنی تجوریاں البتہ خوب بھری ہیں اور دن رات ان میں مزید اضافے کے لیے کوئی نہ کوئی تدبیر کرتے رہتے ہیں۔پاکستان صرف سیاستدانوں اور فوجیوں کا نہیں، پاکستانی عوام کا بھی ہے۔ جب تک آپ اس کے وارث ہونے کا حق رکھنے کی اہمیت کو نہیں جانیں گے۔ سانپ اور سیڑھی کے اس شیطانی کھیل کا حصہ بنتے رہیں گے۔