سانپ سیڑھی کا کھیل

ایوانوں سے لے کر کرکٹ کے میدانوں تک ”تجربات“ کی بھٹیاں سلگ رہی ہیں اورلوگ”جھلس“ رہے ہیں،مصنوعی بت آہستہ آہستہ پگھل رہے ہیں۔پیتل پر سونے کا پانی چڑھانے سے پیتل سونا نہیں بن جاتا پیتل کو ظاہر ہونا ہی ہے۔کہنے والے تو کہتے ہیں کہ ناکامیوں کی داستان لکھی جا چکی ہے،حمایتی بھی دستبردار ہو چکے ہیں۔ اب تو ناکامیوں کی وجوہات تلاش کی جا رہی ہیں۔نرگسیت اور خود پسندی بالآخر تباہی کی طرف گامزن نظر آتی ہے۔ایک سال بعد آج اسی دوراہے پر آن پہنچے ہیں جہاں سے چلے تھے۔منزل تو مزید دوررہو چکی ہے۔”سلیکٹرز“بدل

ے پھر”کھلاڑی“بدل دیے لیکن پرفارمنس”ٹاپ لیول“ سے زیرو پرچلی گئی ہے تو الزام کس کو دیں سلیکٹرز کو یا کھلاڑیوں کو؟ پاکستان کا کرکٹ میں وہی حشر ہوا ہے جو ملکی معیشت کا ہو رہا ہے جو سیاست کا ہو رہا ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہمارامسئلہ آخر ہے کیا۔ کیا ہمیں کامیابی سے ”چڑ“ یا شدیدنفرت ہے،ترقی کیوں ہمیں راس نہیں آتی؟
نمبر ون ہوتے ہیں تو”تبدیلی“کا بخار چڑھ جاتا ہے،جو کام کرتا ہے اسے کان سے پکڑ کر باہر نکال دیتے ہیں۔
سیاست میں کھیل اور کھیل میں سیاست ہو رہی ہے۔ سابقہ دور حکومت میں کچھ ترقی ہوئی تو ہمیں یقین ہی نہیں آیا کہ ہم بھی کچھ بہتر ہو سکتے ہیں،ساری گروتھ جعلی اور مصنوعی قرار دے دی گئی۔ کرنسی مستحکم،گروتھ ریٹ بہترین ،اسٹاک مارکیٹ بلند ترین سطح پر،معاشی اشارے زبردست،ترقیاتی کام تیزرفتار پھر بھی ”بے یقینی“ ۔قرض اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے نے ہماری سانسوں میں ”اُتھل پُتھل“ پیدا کردی ساڑھے تین ہزار ارب کی اکانومی کے باوجود ڈوبنے کا خوف۔ہمیں ”تبدیلی“چاہیے تھی اور تبدیلی آگئی تو نتیجہ کیا نکلا؟ آج پھر سے زیروپر کھڑے ہیں،اب قرضے بھی لے رہے ہیں اور اب ڈوبنے کا کوئی خوف بھی نہیں۔ستر سال سے سانپ سیڑھی کا کھیل جاری ہے جو اوپر جاتا ہے ڈسا جاتا ہے۔
ورلڈ اکنامک فورم کی رپورٹ کے مطابق ایک سال پہلے قبل کرپشن میں پاکستان 99 ویں نمبر پرتھا آج ہم سوسے اوپر نکل گئے ہیں۔ کرپشن کے خاتمے کا نعرہ بھی دل فریبی سے زیادہ کچھ نہیں نکلا،جو کرپشن کے خاتمے کا نعرہ لگا کر آئے تھے ان کی حکومت کے دور میں بھی کرپشن بڑھ گئی ہے۔آزادی صحافت 112 نمبر سے 116 نمبر پر چلی گئی ہے،انفراسڑکچر 93 سے 105 پر آگیا ہے معیشت ٹھیک کرنے کے وعدے پر آئے تھے اور عالمی معیشت میں تین درجہ گرا کے 110 ویں نمبر پر چلے گئے ہیں سری لنکا، بنگلہ دیش حتی کہ نیپال بھی ہم سے آگے نکل چکے ہیں۔بالکل یہی حشر کرکٹ ٹیم کا ہواہے۔ٹی ٹونٹی میں نمبر ون ٹیم کو ہم نے پوری محنت کر کے دنیا کی کمزور ٹیم سے کلین سوئیپ کروا دیا۔
اکانومی اور کرنسی کی طرح کرکٹ کو بھی اس کے اصل مقام پر پہنچا دیا گیا ہے کیونکہ کوچ اور سلیکٹرز نے ٹیم کو مصنوعی طور پر نمبر ون پوزیشن دلا رکھی تھی۔سری لنکا سے ہار کر بھی ہم خوش ہیں،جس طرح معیشت خراب کروا کر بھی ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ پہلے سے بہتر ہو رہی ہے پہلے تو مصنوعی گروتھ تھی۔اسی طرح ٹی ٹوئینٹی سیریز ہار کر بھی ہم اس بات پر شکر ادا کر رہے ہیں کہ کوئی ٹیم تو پاکستان کھیلنے تو آئی یعنی بربادیوں میں سے کامیابیوں کے پہلو نکالے جا رہے ہیں۔آخر تجربات کا شوق ہمیں کہاں لے جائے گا؟
وزیراعظم کہتے ہیں ابھی تیرہ ماہ ہوئے ہیں اور لوگ پوچھتے ہیں کہ کہاں ہے" نیا پاکستان " لوگوں میں "صبر" نہیں ہے سوال یہ ہے کہ خان صاحب نے اسی وعدے پر تولوگوں سے ووٹ لیے تھے اور عوام کو 90 روز میں تبدیلی کا خواب دکھایا اب اگر لوگ پوچھ رہے ہیں تووہ کہتے ہیں کہ لوگوں میں صبر نہیں ہے جتنا صبر اس قوم میں ہے کسی اور قوم میں ہے ہی نہیں۔ ابھی تو لوگ صرف پوچھ رہے ہیں حساب نہیں مانگ رہے اور پوچھنا کوئی جرم نہیں۔
مورخ یہ تو کہے گا کہ ایک وزیراعظم تھا جو ملک کوبڑے بڑے پروگرام دیتا تھابڑے بڑے منصوبے بناتا تھا جس نے ”سی پیک“ دیا تاکہ کاروبار اور بزنس میں اضافہ ہو،جس کے دور میں صرف اکنامک گروتھ کی بات ہوتی تھی۔ دوسرا انڈوں مرغیوں کے کاروبار سے لے کر لنگر خانے کھول رہا ہے، سوجس کو جو کام آتا ہے وہ وہی کام اچھے طریقے سے کر سکتا ہے۔ لنگر خانے کھلنے پر کوئی اعتراض نہیں یہ نیکی کا کام ہے اور کسی کو بدی سے تو روکا جا سکتا ہے مگر نیکی سے نہیں، لیکن جس رفتار سے ملک ترقی کر رہا ہے اس بات کا خدشہ ہے کہ لنگر خانے کہیں کم نہ پڑیں۔ گزارش اتنی ہے کہ غریبوں کی تعداد مزید نہ بڑھائیں۔
یہ بڑی صابر قوم ہے جو کھلی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے کہ ملک کدھر جا رہا ہے لیکن پھر بھی”پاگل" نہیں ہو رہی۔ حوصلے سے وقت گزار چکی ہے۔ لیکن جو حکومت گرانے نکل رہے ہیں انکے ساتھ ہو گی یا نہیں یہ تو نہیں معلوم مگر یہ بات طے ہے کہ اس وقت سیاست کے افق پر دھرنا بری طرح چھایا ہوا ہے اور وزرا ء کی فوج ظفر موج دن رات جمہوریت کے فوائد اور دھرنے کے نقصانات پر لیکچرز دے رہی ہے۔
پہلے نواز شریف کہتے تھے کہ دھرنا دینے سے ملک کا نقصان ہوتا ہے اور پی ٹی آئی نہیں مانتی تھی اب پی ٹی آئی کہتی ہے کہ دھرنا دینے سے ملک کا استحکام خطرے میں پڑ سکتا ہے لیکن اب کوئی بھی نہیں ماننے کو تیار نہیں۔
حکومت گرفتاریوں سے ڈرا رہی ہے اور اپوزیشن دھرنے سے۔حمایت اور مخالفت زوروں سے جاری ہے اور حکومت بظاہر دھرنے کو لفٹ نہیں کروا رہی اور یہ دعوے کر رہی ہے کہ مولانا فضل الرحمن لوگوں کو باہر نہیں نکال سکیں گے توپھر خوف کس بات کا ہے؟
بعض مبصرین کی رائے میں اپوزیشن کے لوگ تھکے ہوئے گھوڑے ہیں اور میڈٰیا ان میں جان ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے حقیت یہ ہے کہ تھکے ہوئے گھوڑے کئی ”تازہ دم“جانوروں سے تو بہتر ہی ہوتے ہیں ویسے بھی تازہ دم گھوڑوں نے فتوحات کے جو جھنڈے گاڑے ہیں وہ بھی سب کے سامنے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ اگر اپوزیشن کے لوگ تھکے ہوئے گھوڑے ہیں اور انکا کوئی مستقبل نہیں تو پریشانی کس بات کی ہے ان گھوڑوں کو رسیاں ڈالنے کی کوشش کیوں کی جا رہی ہے؟جیل سے نکال کر نیب کی تحویل میں کیو ں دے دیا گیا۔ حکومتی وزیر میڈیا پر آکر کیوں اپیلیں کر ہے ہیں کہ مدرسوں کے بچے ان گھوڑوں کی سواری نہ کریں،ان گھوڑوں کو اسلام آباد میں داخل نہیں ہونے دیں گے ان پر مقدمات کریں گے سوال یہ ہے کہ اگر گھوڑا تھکا ہوا ہے تو کتنا دوڑ لے گا؟تھکے ہوئے گھوڑے کی تو مشکیں کھول دی جاتی ہیں یہاں تو اس کی مشکیں کسنے کی بات ہورہی ہے اسے باندھنے کی کوشش ہو رہی ہے۔
کہنے والے تو کہتے ہیں اور کہنے والوں کو کون روک سکتا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کے پاس دھرنا دینے کا وہی جواز ہے جو 2014 میں عمران خان کا تھا۔ مولانا فضل الرحمن تو الیکشن کے بعد سے چاہتے تھے کہ اپوزیشن جماعتیں استعفے دے کر اسمبلیوں سے باہر آجائیں۔ ٖ
اس وقت انہیں نواز شریف نے روک لیاتھا لیکن اب نواز شریف بھی یہ تسلیم کر رہے ہیں کہ مولانا ٖفضل الرحمن کا موقف درست تھا۔اور آخری کیل نواز شریف نے آزادی مارچ میں شرکت کے اعلان سے ٹھونک دی ہے جس سے سانپ سیڑھی کے کھیل میں جان پڑ چکی ہے۔