پاکستان کہاں ہوتا، یہ خود کہاں ہوتے؟

حکمت اور بصیرت کی انتہا ہیں یہ احکامات جن کا تعلق آخرت ہی نہیں زندگی کے ساتھ بھی بہت گہرا ہے۔ حکمرانوں کیلئے ملکی وسائل، پبلک منی اور خزانے سے ’’ذاتی دوری‘‘ میں نہ صرف قوم و ملک کی فلاح و بہبود، ترقی اور مضبوطی ہوتی ہے بلکہ حکمران خود بھی ذاتی طور پر بھی ذلت و رسوائی سے محفوظ رہتے ہیں ورنہ اُن کو یا اُن کی کسی نہ کسی نسل کو اُس کی بیحد بھیانک قیمت چکانا پڑتی ہے، جیسے مغل شہزادوں کو ٹانگے چلانا پڑے اور شہزادیوں کو زندہ رہنے کیلئے باورچیوں سے شادیاں کرنا پڑیں تو دوسری طرف سلطنت عثمانیہ کی یادگاروں کو بس کنڈکٹریاں کرنا پڑیں یا چھوٹے موٹے قرض مانگنے کی اہانتوں سے گزرنا پڑا۔

روس کے زاروں بارے لکھتے ہوئے قلم کانپتا ہے۔فلپ حسیٹی لکھتا ہے کہ ’’پہلی اسلامی صدی میں عربوں نے جس حیرت انگیز رفتار کے ساتھ متمدن دنیا کے بیشتر حصوں کو فتح کر لیا، تاریخ میں اُس کی مثال نہیں ملتی لیکن اُس سے بھی حیران کن بات حضورؐ کی رحلت کے بعد تیسری صدی کے وسط سے لے کر چوتھی صدی کے وسط کے لگ بھگ عربی اقتدار کا زوال و انحطاط ہے‘‘۔

بظاہر خارجی عوامل میں وحشی منگولوں کی خوفناک یلغاریں اور خلافت کے اندر اور اردگرد بیشمار آزاد، نیم آزاد، مادر پدر آزاد حکمران خاندانوں کا سر اُٹھانا ہے لیکن میرے نزدیک تو یہ ذرا سطحی قسم کی صداقتیں ہیں، جو جزوی طور پر تو کسی حد تک درست ہو سکتی ہیں لیکن ذرا گہرائی میں جا کر دیکھیں تو حقائق کچھ اور ہیں۔ میں نے شروع میں دین کے حوالہ سے حکمرانی کا یہ اصول بیان کیا کہ مسلمان حکمران کا پبلک منی، ملکی وسائل اور خزانے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں اور یہی وہ اصول ہے جس پر خلفائے راشدینؓ نے اِس سختی سے عمل کیا کہ اُس کے اثرات انتہائی دور رس ثابت ہوئے اور اُسے بتدریج ترک کرتے ہوئے بھی اُس کی شدتِ وحدت کسی نہ کسی شکل میں برقرار رہی۔

عروج کا سفر جاری رہا لیکن کب تک؟جب سو فیصد ملوکیت کے رنگ میں رنگے گئے تو ’’بہتات‘‘ اور ’’بےلگام آزادی‘‘ نے حکمرانوں میں بیشمار کجیوں، بدصورتیوں، لالچ، ہوس، خود غرضیوں، بےراہرویوں، انتشار اور کمزوریوں کو جنم دینا شروع کر دیا ورنہ ’’ابتدائی حالت‘‘ قائم رہتی تو تاتاریوں سے بھی نمٹ لیتے، مقامی شورشوں کی نوبت بھی نہ آتی اور بدترین رسوائیوں سے بھی بچے رہتے لیکن حالت کیا تھی کہ اُنہیں رنگا رنگ دیمک، زنگ اور کینسر کھا رہا تھا اور یہ طاقت، دولت کے نشے میں مدہوش تھے، ہر قسم کی ہوس نے حواس چھین لئے تھے۔

تاریخ بلکہ یوں کہئے کہ سنجیدہ تاریخ قدم قدم پر یہ گواہی دیتی ہے کہ ملکی وسائل اور خزانے کی غیرمشروط لوٹ مار نے عوام کو بھی غلام کیا جس کے نتیجہ میں حکمران خود بھی ذلیل و رسوا ہوئے۔ عیاشیوں نے بتدریج اُن کی بہترین صفات سے اُنہیں محروم کردیا۔ نہ وہ تحمل، بردباری، قناعت، شجاعت اور ذہانت باقی رہی نہ کوئی امنگ باقی بچی۔حرم اور حرم سرا کی ننگ نسوانیت کنیزیں اور خواجہ سرا، ننگ آدمی غلمانِ، قصر شاہی کی اَن گنت خواصیں اور اوپر سے لاتعداد سوتیلے بہن بھائی، اُن کی ناگزیر زہریلی رقابتیں اور سازشیں، نغمہ و شراب میں غرق راتیں تو دوسری طرف بھوک، ننگ، محرومیوں کے مارے وہ حشرات الارض جنہیں عوام کہتے ہیں، مسلسل بھوکی معیشت کی خوراک بن چکے تھے۔

محصولات یعنی ٹیکسوں کا سیلاب تھا جو ختم ہونے میں ہی نہیں آتا تھا۔ مراعات یافتہ طبقات کی خباثت نے زراعت سے لے کر صنعت و حرفت تک کی کمر توڑ رکھی تھی۔ حکمران طبقات جتنے دولت مند ہوتے جاتے، اُسی نسبت سے عوام کی غربت میں اضافہ ہوتا چلا جاتا۔ ریاستوں کے اندر ریاستیں بنتی چلی جا رہی تھیں۔ آپس میں اتحاد کی جگہ انتشار کی کیفیت عام تھی۔

رہی سہی کسر قحط، بارش کی کمی، موسمی طغانیوں اور وبائوں نے پوری کر دی تھی۔تب کورونا تو نہیں تھا لیکن طاعون، چیچک، ملیریا اور دیگر بیماریوں کے بار بار حملہ آور ہونے نے قرونِ وسطیٰ کے انسانوں کو بری طرح بےبس کر رکھا تھا۔

عربوں کی فتوحات کے بعد چار صدیوں کے وقائع میں ہمیں تقریباً چالیس وبائوں کا ذکر ملتا ہے۔ سپین اور یورپ کے دوسرے حصوں میں بھی مسلمانوں کے زوال کے اسباب مجموعی طور پر اسی قسم کے ہیں، جن کے ہاتھوں مملکت کے مشرقی اور وسطی علاقوں میں ’’خلافت‘‘ کا خاتمہ ہوا۔تب اور اب کے حالات میں اگر کوئی مماثلت ہے تو کیا ہمیں اِس پر غور نہیں کرنا چاہئے؟

کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ بھٹو اور شریف خاندانوں کو قدرت نے پے در پے جو مواقع فراہم کئے، اگر ان میں ملکی وسائل، پبلک منی، خزانہ، توشہ خانہ سے دوری اور عوام کی بہتری کا مقابلہ عروج پر رہتا تو آج پاکستان کہاں ہوتا؟ اور یہ خود کہاں ہوتے؟لیکن نہ خود کسی قابل رہے نہ ہمیں کسی قابل چھوڑا صدیوں سے یہی ہمارے ’’کرنٹ افیئرز‘‘ ہیں۔